تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 39 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 39

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۸ خاندانی حالات مرحوم اس ملک کے مسلمانوں کی ہمدردی میں کامیاب نہ ہو سکے۔اور مرزا صاحب مرحوم کے حالات عجیبہ میں سے ایک یہ ہے کہ مخالفین مذہب بھی ان کی نسبت ولایت کا گمان رکھتے تھے۔اور ان کے بعض خارق عادت امور عام طور پر دلوں میں نقش ہو گئے تھے۔یہ بات شاز و نادر ہوتی ہے کہ کوئی مذہبی مخالف اپنے دشمن کی کرامات کا قائل ہو۔لیکن اس راقم نے مرزا صاحب مرحوم کے بعض خوارق عادات ان سکھوں کے منہ سے سنے ہیں جن کے باپ دادا مخالف گروہ میں شامل ہو کر لڑتے تھے۔اکثر آدمیوں کا بیان ہے کہ بسا اوقات مرزا صاحب مرحوم صرف اکیلے ہزار ہزار آدمی کے مقابل پر میدان جنگ میں نکل کر ان پر فتح پالیتے تھے اور کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ ان کے نزدیک آسکے۔اور ہر چند جان تو ڑ کر دشمن کا لشکر کوشش کرتا تھا کہ تو پوں اور بندوقوں کی گولیوں سے ان کو مار دیں مگر کوئی گولی یا گولہ ان پر کارگر نہیں ہو تا تھا۔یہ کرامت ان کی صدہا موافقین اور مخالفین بلکہ سکھوں کے منہ سے سنی گئی ہے۔جنہوں نے اپنے لڑنے والے باپ دادوں سے سندا بیان کی تھی۔لیکن میرے نزدیک یہ کچھ تعجب کی بات نہیں۔اکثر لوگ زمانہ دراز تک جنگی فوجوں میں نوکر رہ کر بہت سا حصہ اپنی عمر کا لڑائیوں میں بسر کرتے ہیں اور قدرت حق سے کبھی ایک خفیف ساز غم بھی تلوار یا بندوق کا ان کے بدن کو نہیں پہنچتا۔سو یہ کرامت اگر معقولی طور پر بیان کی جائے کہ خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل سے دشمنوں کے حملوں سے ان کو بچاتا رہا۔تو کچھ حرج کی بات نہیں۔اس میں کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ مرزا صاحب مرحوم دن کے وقت ایک پر ہیبت بہادر اور رات کے وقت ایک باکمال عابد تھے اور معمور الاوقات اور متشرع تھے " اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پر دادا صاحب فوت ہوئے تو بجائے ان کے میرے دادا صاحب یعنی مرزا عطا محمد صاحب فرزند رشید ان کے گدی نشین ہوئے۔ان کے وقت میں خداتعالی کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی میں سکھ غالب آئے۔دادا اصاحب مرحوم نے اپنی ریاست کی حفاظت کے لئے بہت تدبیریں کیں مگر جبکہ قضاء و قدر ان کے ارادہ کے موافق نہ تھی اس لئے ناکام رہے اور کوئی تدبیر پیش نہ گئی اور روز بروز سکھ لوگ ہماری ریاست کے دیہات پر قبضہ کرتے گئے۔یہاں تک دادا صاحب مرحوم کے پاس ایک قادیان رہ گئی اور قادیان اس وقت ایک قلعہ کی صورت پر قصبہ تھا۔اس کے چار برج تھے اور برجوں میں فوج کے آدمی رہتے تھے۔اور چند تو ہیں تھیں اور فصیل بائیں فٹ کے قریب اونچی اور اسی تدرچوڑی تھی کہ تین چھکڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل اس پر جا سکتے تھے۔اور ایسا ہوا کہ ایک گروہ سکھوں کا جو رام گڑھیہ کہلا تا تھا اول غریب کی راہ سے اجازت لے کر قادیان میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کر لیا۔اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی