تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 550 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 550

تاریخ احمدیت جلدا ۵۴۹ تعطیل جمعہ کی تحریک آپ کی صداقت کا کھلا کھلا خدائی نشان تھا۔جب آپ نے الہام پانے کا دعوی کیا تو آپ جوان تھے لیکن اب آپ بوڑھے ہو چکے۔آپ کے بہت سے دوست اور عزیز جو آپ سے چھوٹے تھے فوت ہو گئے اور آپ کو اللہ تعالٰی نے عمر در از بخشی اور ہر میدان میں آپ کی نصرت و تائید فرمائی۔اور ہر مشکل میں آپ کا متکفل و متولی رہا۔مگر آسمانی عدالت کا یہ عملی فیصلہ دیکھ کر بھی چونکہ خدا ناترس علماء اور سجادہ نشین ابھی تک آپ کے مفتری و کذاب ہونے کی رٹ لگا رہے تھے اس لئے حضور نے خدا کے حکم سے اس سال ہندستان کے تمام قابل ذکر مخالف عالموں اور سجادہ نشینوں کا نام لے لے کر ان کو مباہلہ کی فیصلہ کن دعوت دی۔اس دعوت کے ساتھ حضور نے مباہلہ کے الفاظ بھی از خود لکھ دیئے۔چنانچہ لکھا الفاظ مباہلہ تاریخ اور مقام مباہلہ کے مقرر ہونے کے بعد میں ان تمام الہامات کو جو لکھ چکا ہوں اپنے ہاتھ میں لے کر میدان مباہلہ میں حاضر ہوں گا اور دعا کروں گا کہ یا الٹی اگر یہ الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں میرا ہی افترا ہے اور تو جانتا ہے کہ میں نے ان کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے یا اگر یہ شیطانی وساوس ہیں اور تیرے الہام نہیں۔تو آج کی تاریخ سے ایک برس گزرنے سے پہلے مجھے وفات دے یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا کر جو موت سے بد تر ہو اور اس سے رہائی عطا نہ کر جب تک کہ موت آجائے تا میری ذلت ظاہر ہو اور لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے تیرے بندے فتنہ اور ضلالت میں پڑیں۔اور ایسے مفتری کا مرنا ہی بہتر ہے۔لیکن اے علیم و خبیر اگر تو جانتا ہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں اور تیرے ہی منہ کی باتیں ہیں تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر کسی کو اندھا کر دے۔اور کسی کو مجزوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا۔اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر اور جب میں یہ دعا کر چکوں تو دونوں فریق کہیں کہ آمین۔ایسا ہی فریق ثانی کی جماعت میں سے ہر یک شخص جو مباہلہ کے لئے حاضر ہو جناب الہی میں یہ دعا کرے۔کہ اے خدائے علیم و خبیر ہم اس شخص کو جس کا نام غلام احمد ہے در اصل کذاب اور مفتری اور کا فر جانتے ہیں۔پس اگر یہ شخص در حقیقت کذاب اور مفتری اور کافر اور بے دین ہے اور اس کے یہ الہام تیری طرف سے نہیں بلکہ اپنا ہی افتراء ہے تو اس امت مرحومہ پر یہ احسان کر کہ اس مفتری کو ایک سال کے اندر ہلاک کر دے تالوگ اس کے فتنہ سے امن میں آجائیں۔اور اگر یہ مفتری نہیں اور تیری طرف سے ہے اور یہ تمام الہام تیرے ہی منہ کی باتیں ہیں تو ہم پر جو اس کو کافر اور کذاب سمجھتے ہیں دکھ اور ذلت سے بھرا ہوا عذاب ایک برس کے اندر نازل کر۔