تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 549 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 549

تاریخ احمدیت جلدا ۵۴۸ تعطیل جمعہ کی تحریک کے زیر اثر علماء نے اس موقعہ پر بھی اختلاف کا افسوسناک مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا پورا زور صرف کر دیا۔چنانچہ لکھا۔چونکہ وہ در پردہ دشمن اسلام اور دہریہ ہے اور موجودہ بیت اسلام و مسلمانوں کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے لہذا کچھ بعید نہیں کہ یہ درخواست اس نے اسی غرض سے تجویز کی ہو کہ یہ درخواست گورنمنٹ سے نامنظور ہو تو موجودہ حالت (افسران بالا دست کی خاص اجازت بھی جاتی رہے اور جمعہ جماعت کا بکھیڑا دور ہو تا نظر آوے۔" مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی اس حاسدانہ کارروائی سے وقتی طور پر یہ تحریک دب گئی مگر بالا خر مولانا نور الدین حضرت خلیفتہ اصحیح اول رضی اللہ عنہ کے عہد میں حکومت نے یہ تجویز منظور کر لی- امیر کابل کے نام تبلیغی خط سلام : سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مارچ یا اپریل ۱۸۹۶ء مطابق شوال ۱۳۱۳ھ میں والٹی کابل امیر عبد الرحمن خاں (۱۸۴۴-۱۹۰۱ء) کے نام ایک تبلیغی خط بھیجا ت یہ خط حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب شہید لے کر گئے تھے۔جناب خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے ایک مرتبہ اپنے اخبار "منادی" میں لکھا تھا کہ امیر کابل نے اس خط کے موصول ہونے پر فقط یہ جواب دیا کہ۔پنجابیا"۔اور مقصد یہ تھا کہ کابل میں آکر دعوی کرو۔تو نتیجہ معلوم ہو جائے گا۔لیکن اس کا کوئی قطعی ثبوت معلوم نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض تحریرات سے صرف اتنا ثابت ہو تا ہے۔کہ بعد کو جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کابل گئے تو انہوں نے امیر کابل کو مشتعل کرنے کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔چنانچہ مولوی صاحب نے واپس آنے کے بعد یہ مشہور کر دیا۔کہ مرزا صاحب کابل جائیں تو زندہ واپس نہیں آسکیں گے۔بعض علماء کا کہنا ہے کہ امیر کابل کو جب حضرت مسیح موعود کا تبلیغی خط پہنچا۔تو انہوں نے کہا "مارا عمر باید نه عیسی - عیسی در زمان خود چه کرده بود که بار دیگر آمد خواهد کرد"۔یعنی ہمیں حضرت عمر فاروق کی ضرورت ہے۔حضرت عیسی کی ضرورت نہیں۔انہوں نے بعثت اوٹی میں کیا کامیابی حاصل کی تھی ؟ مخالف عالموں اور سجادہ نشینوں کو مباہلے کی دعوت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے دعوئی الہام پر بیس برس سے زائد عرصہ گزر چکا تھا جو