تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 548 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 548

تاریخ احمدیت جلدا - ۵۴۷ تعطیل جعہ کی تحریک ماموریت کا پندرھواں سال تعطیل جمعہ کی تحریک (۱۸۹۶ء) ۱۸۹۶ء کا آغاز ایک دوسری تحریک سے ہوا جو تعطیل جمعہ سے متعلق تھی۔جمعہ کی عظمت و فرضیت قرآن و احادیث سے نمایاں اور مسلمانان عالم کے نزدیک مسلم ہے جہاں جہاں اسلامی حکومتیں قائم رہیں انہوں نے اس شعار اسلامی کے قیام و بقاء کا خاص خیال رکھا۔اسی طرح جس وقت سے ہندوستان میں اسلامی سلطنت کی بنیاد پڑی اسی وقت سے جمعہ کی تعطیل بھی جاری ہوئی اور آخر تک جاری رہی بلکہ مسلمان حکومت کے خاتمہ کے بعد بھی مدت تک بعض ہندو ریاستوں میں جمعہ کی سرکاری تعطیل ہوتی رہی۔لیکن جب انگریز ملک پر قابض ہوئے تو اتوار کی تعطیل شروع ہو گئی اور مسلمان بالعموم اس مقدس دن کی برکتوں سے محروم رہ گئے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ احیائے دین کے لئے تشریف لائے تھے اس لئے آپ نے یکم جنوری ۱۸۹۶ء کو مسلمانان ہند کی طرف سے وائسرائے ہند کے نام اشتہار شائع کیا جس میں اسلامی نقطہ نگاہ سے جمعہ کی اہمیت واضح کر کے درخواست کی کہ وہ مسلمانوں کے لئے جمعہ کی تعطیل قرار دیں۔اس سے قبل مسلمانوں نے کئی دفعہ اس تجویز کا ارادہ کیا لیکن یہ سوچ کر کہ ایک غیر اسلامی گورنمنٹ سے اس کے قبول کرنے کی امید نہیں ہو سکتی وہ دستکش ہو گئے۔1 حضرت اقدس نے یہ تحریک مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی پر زور مخالفت اٹھاتے ہوئے بالخصوص علماء کو توجہ دلائی کہ " وہ بھی دستخط کرنے سے ثواب آخرت حاصل کریں۔یہ فرض کیا کہ ہم ان کی نظر میں کا فراد ر بے دین ہیں۔مگر اس بے دلیل خیال سے اس نیکی سے محروم نہ رہ جائیں یو نہی سمجھ لیں کہ کبھی دین کو خداتعالی فاسقوں کے ذریعہ سے بھی مدد دیتا ہے۔لیکن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان