تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 546 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 546

تاریخ احمدیت جلدا ۳۶- ترجمه از گورید نرنے حصہ دوم صفحه ۴ ۵۴۵ تین عظیم الشان علمی انکشافات تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب " تحریک احمدیت کا اثر سکھوں پر " ( مطبوعه ۱۹۴۵ء شائع کرده مکتبه احمد یہ قادیان) - تبلیغ رسالت " جلد چهارم صفحه ۲۸ حاشیه ۹ - "دفعہ ۲۹۸ جو کوئی شخص سوچ بچار کر ذہب کی نسبت کسی شخص کھول دکھانے کی نیت سے کوئی بات کے یا کوئی آواز نکالے جس کورہ شخص سن سکے یا اس شخص کے پیش نظر کوئی حرکت کرے یا کوئی شے اس کے پیش نظر رکھے تو شخص مذکور کو دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزادی جائے گی جس کی میعاد تین ہفتے تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ کی سزا یا دونوں سزائیں دی جائیں"۔(مجموعه قوانین تعزیرات ہند یعنی ایکٹ (۴۵-۶۱۸۷۰) ۴۰ - آریه دهرم صفحه ۱۹ طبع اول - آریہ دھرم صفحه ۷۴ ۷۵ طبع دوم M - ۴۲ - ۷۰۴ در خواست کنندگان کی ایک ابتدائی فہرست حضرت اقدس نے " آریہ دھرم " میں بھی شائع فرمائی۔۳۳ - سرسید احمد خاں مرحوم کے سیاسی جانشین، علی گڑھ کالج اور ایجوکیشنل کانفرنس کے مہتم اور آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے سیکرٹری تھے۔مفصل سوانح کے لئے دیکھئے "موج کوثر " (از شیخ محمد اکرام ایم۔اے) ۴۴ - یہ لفظ اصل خط میں سوارہ گیا ہے۔(مرتب) ۴۵ - الحکم ۷ - اگست ۱۹۳۴ء صفحه ۹ - اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر ۱۲ صفحه ۳۶۱ ۴۷ - اشتهار ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحه ۱۲ ۲۸ - ولادت ۱۸۸۸ء وفات ۱۸۴۱۷ اکتوبر ۱۹۴۷ء آپ ان خوش قسمت وجودوں میں سے تھے جنہوں نے سے 190 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریک وقف زندگی پر لبیک کسی اور پھر خلافت ثانیہ کے عہد مبارک میں ۱۲ سال تک ماریشس میں تبلیغ حق کی جہاد کی توفیق پائی۔حضرت صوفی صاحب حافظ قرآن بھی تھے اور ان کی آواز میں حضرت مولانا عبد الکریم صاحب کا مخصوص وجد آفرین رنگ پایا جا تا تھا آپ ابھی بچے ہی تھے کہ باپ کا سایہ سرسے اٹھ گیا اور آپ حضرت چوہدری رستم علی صاحب کی کفالت میں آگئے۔اور انہی کے طفیل قادیان میں تعلیم پائی اور سلسلہ احمدیہ سے وابستہ ہوئے۔۴۹ - حضرت منشی عبد العزیز صاحب او جلوی کے بھائی اور احمد یہ مشن انڈو نیشیا کے پہلے مبلغ مولانا رحمت علی صاحب کے والد ماجد !! آپ ابتداء سلسلہ کے شدید مخالف تھے لیکن بالاخر مسلسل دعاؤں کے نتیجہ میں انہیں بذریعہ رویا قادیان اور مسجد اقصیٰ کا حقیقی منظر دکھایا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی اور بتایا گیا کہ حضور ہی امام الزمان ہیں۔اب چونکہ حق پوری طرح کھل چکا تھا اس لئے آپ اپنے بھائی کے ہمراہ نور قادیان پہنچے اور بیعت کر کے آسمانی سلسلہ میں شامل ہو گئے۔۱۹۰۲ء میں قادیان کی مستقل ہجرت کی۔آپ کو موصی نمبرا ہونے کا قابل فخر اعزاز بھی حاصل ہے حضرت مسیح موعود کی تحریک وقف زندگی میں آپ نے بھی اپنا نام پیش کیا تھا۔چنانچہ آپ نے اس عہد کو نباہتے ہوئے پوری مرد عظ و تلقین میں گزار دی۔وفات ۲۰۔جولائی ۱۹۴۹ء کو بمقام چنیوٹ ہوئی۔ولادت ۱۸۶۸ء وفات ۱۴- نومبر ۱۹۴۷ء - حضرت منشی جلال الدین صاحب بلانوی کے فرزند تھے ۱۹۰۶ء میں قادیان کی ہجرت اختیار کی۔آپ کو ربع صدی سے زائد عرصہ تک سلسلہ کی جلیل القدر خدمات کی توفیق ملی یکم جنوری ۱۹۰۷ء کو جب کہ صدر انجمن احمدیہ کے دفتر محاسب میں محرر متعین ہوئے اور پھر اپنے ذہن رسا اور حسن کارکردگی کی بدولت ۱۹۱۲ء میں آڈیٹر بنے۔اور پھر ۱۹۲۲ء سے ۱۹۳۲ء تک محاسب کے عہدے پر فائز رہے۔مئی ۱۹۳۲ء میں آپ صدر انجمن احمدیہ کی ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے۔لیکن اس کے بعد جب اراضیات سندھ کا کام شروع ہوا تو ستمبر ۱۹۳۲ء میں آپ کو ناظم جائیداد مقرر کیا گیا اور اس عہدہ پر آپ نے مزید پانچ سال تک خدمات سرانجام دیں۔حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایده الله بنصرہ العزیز نے آپ کے ریٹائر ہونے پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا " مرزا محمد اشرف صاحب کو میں نے دیکھا ہے اور ان کی یہ بات مجھے ہمیشہ پسند آئی کہ وہ اس طرح کام کرتے ہیں۔جس طرح ایک عورت اپنے گھر میں کام کرتی ہے وہ جانتی ہے کہ اس کے پاس کتنا سرمایہ ہے اور وہ اس سے کس -0°