تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 544
تاریخ احمدیت۔جلدا -1 سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۱۲۷ وفات ۲۷ اکتوبر ۱۹۳۵ء عمر ۷ سال ۵۴۳ حواشی تین عظیم الشان علمی انکشافات "میرت مسیح موعود حصہ سوم صفحه ۳۲۵-۳۲۶ مولفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۱۲۶- ۱۲۷ ۵- بدر ۱۲ جنوری ۱۹۰۶ء صفحه ۸ کالم نمبر ۳ -1 ۹ "ضياء الحق" اخبار بدر ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۳ سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۲۲۷-۲۲۷ -۱۰ مشہور کتاب " عسل مصفی " کے مصنف وفات ۵- اپریل ۱۹۳۸ء - # - ۱۳ من الرحمن " صفحه ۱۹-۱۷ اس حقیقت کے بر عکس " مجدد اعظم" کے مؤلف جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے لکھا ہے کہ تحقیق کرنے والے احباب میں خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم سب سے پیش پیش تھے۔(مجدد اعظم جلد اول صفحہ ۴۱۷) ۱۳ - من الرحمن " صفحه ۱۲ ۱۴ - فن الرحمن " صفحہ ۱۰-۱۱ ۱۵ - خواجہ کمال الدین صاحب نے اس تحقیق کا محض ابتدائی تعارف کرانے کے لئے ایک مختصری کتاب "ام الالسنہ " لکھی مگر حضرت اقدس کی قائم کردہ بنیادوں پر مفصل ریسرچ کرنے کی سعادت مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ لائلپور خلف الرشید حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے حصہ میں آئی جنہوں نے برسوں کی محنت و کاوش سے دنیا کی مشہور زبانوں مفکرت انگریزی، لاطینی، جرمنی، فرانسیسی ، چینی ، فارسی اور ہندی کے گہرے اشتراک اور عربی کے ام الالسنہ ہونے کا نظریہ پورنی شرح و سط سے نمایاں کیا ہے اور حضرت مسیح موعود کے بیان فرمودہ اصول د اشارات کی روشنی میں ان زبانوں کے ہیں ہزار الفاظ کے حل کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کرتی ہے آپ کی تحقیق کا ایک ابتدائی حصہ ماہنامہ " الفرقان اپریل مئی ۱۹۵۶ء میں شائع ہو چکا ہے اور اب اس کی اشاعت رسالہ " ریویو اف ریلیجہ " انگریزی میں بھی ہو رہی ہے۔آپ کے قلم سے اس سلسلہ میں بیش بہا - It لڑ پچر چھپ چکا ہے۔حضرت سیدۃ النساء ام المومنین رضی اللہ عنہا کے چھوٹے بھائی اور حضرت مسیح موعود کے اکابر صحابہ میں سے تھے ۱۸- جولائی ۱۸۸۱ء کو پیدا ہوئے اور ۱۸- جولائی ۱۹۴۷ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔حضرت میر صاحب کے علو مرتبت کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ آپ کے مزار مبارک کا کتبہ خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کا تحریر فرمودہ ہے جس میں حضور نے لکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان سے بہت محبت تھی۔اور ان کے تمام کاموں میں آپ دلچسپی لیتے تھے اسی طرح حضرت میر صاحب کا بھی آپ کے ساتھ عاشقانہ تعلق تھا۔بھائیوں میں حضرت ام المومنین کو میر محمد اسمعیل صاحب سے زیادہ محبت تھی۔نہایت ذہین اور زکی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب خطبہ الہامیہ دیا تو آپ نے اس ارشاد کو سن کر کہ لوگ اسے یاد کریں انہوں نے چند دنوں میں ہی سارا خطبہ یاد کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سنا دیا تھا۔باوجود نہایت کامیاب ڈاکٹر ہونے کے اور بہت بڑی کمائی کے قابل ہونے کے زیادہ تر پریکٹس سے بچتے رہے اور غرباء کی خدمت کی طرف اپنی توجہ رکھتے تھے پنشن کے بعد قادیان آگئے لیکن بوجہ صحت کی خرابی کے کوئی باقاعدہ کام سلسلہ کا نہیں لے سکے بلکہ جب طبیعت اچھی ہوتی تھی الفضل میں مضامین لکھ دیا کرتے۔بہر حال میر محمد اسمعیل صاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے صحابہ میں سے تھے اور آپ کے منظور نظر تھے۔آپ کی وفات کے بعد تمام ابتلاؤں میں سے گزرتے ہوئے سلسلہ کی