تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 530
تاریخ احمدیت جلدا ۵۲۹ تین عظیم الشان علمی انکشافات mystic and great local saint, is buried in a magnificent tomb formerly much visited by the emperors of India and other notables۔There must be about a thousand of these Christians۔Their chief is the Abba Yahiyya (Father John), who can recite the succession of teachers through nearly sixty generatons to · Isa, son of Mary' of ‘nazara, the Kashmiri۔According to these people, Jesus escaped from the Cross, was hidden by friends, was helped to flee to India, where he had been before during his youth, and settled in Kashmir, where he is revered as an ancient teacher, Yuz Asaf۔It is from this period of the supposed life of Jesus that these people claim to have got their message۔(AMONG THE DERVISHES P: 107 An account of travels in Asia and Africa, and four years studying the Dervishes, Sufis and Fakirs, by living among them۔THE OCTAGON PRESS LONDON (1984 3RD EDITION(طبع سوم) (ترجمہ) (حضرت) عیسی بن مریم کے پیرو عموماً اپنے تئیں مسلمان کہتے ہیں یسوع کے پیرو کار اور افغانستان کے غربی علاقے میں پھیلی ہوئی ان متعدد بستیوں میں آباد ہیں جن کا مرکز ہرات ہے۔میں نے ان کی نسبت کئی بار سنا تھا لیکن میں سمجھتا تھا کہ شاید یہ شرقی ایران کے وہ لوگ ہیں جنہیں یورپی مشنریوں نے عیسائی بنالیا تھا یا وہ اس زمانے کی یاد گار ہیں جب ساتو میں آٹھویں صدی عیسوی میں ایران پر عربوں کے تسلط سے قبل ہرات نسطوری سلطنت کا حصہ ہوا کر تا تھا۔لیکن ان کے اپنے بیان کے مطابق بلکہ میں خود بھی یہی سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ کسی اور زیادہ قدیم قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔مجھے ان کا علم میر آف گزر گا کے ایک کارندے کے ذریعہ ہوا۔میر (حضرت) محمد کی اولاد میں سے ہے اور یہ لوگ اسی کی زیر حفاظت رہتے ہیں۔گزر گا ایک خانقاہ ہے جہاں ایک مقامی صوفی بزرگ (حضرت) عبداللہ انصار کا نہایت شاندار مزار واقع ہے اور جو ہندوستان کے کئی بادشاہوں اور معززین کی زیارت گاہ رہا ہے۔ان عیسائیوں کی تعداد ضرور ایک ہزار تک ہو گی۔ان کے سردار کا نام ابا نیچی ہے جو عیسی بن مریم ناصری کشمیری تک اپنے رہبروں کی گزشتہ ۶۰ پشتوں تک کے نام گنوا سکتا ہے۔