تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 529
تاریخ احمدیت جلدا ۵۲۸ تین عظیم الشان علمی انکشافات ہونے سے متعلق جدید تحقیقات کا بیان ہے لیکن جہاں تک حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے ہندوستان میں آنے اور سرینگر محلہ خان یار میں مدفون ہونے کا تعلق ہے اس کے متعلق بعض اور قدیم ماخذ بھی حاصل ہوئے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود کا یہ انکشاف اب حقائق و شواہد کے میدان میں اس جہ نکھر گیا ہے کہ اور تو او روہ عیسائی محقق جو کبھی محلہ خانیار کی قبر کو " یار خاں کا چبوترہ " اور فرضی قرار دیتے تھے اب ۶۳ سال کی مسلسل کشمکش کے بعد اسے "مزار عینی " تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔وہ قبائل جواب سرحد میں پائے جاتے ہیں ان کی پشت میں ایک مرتبہ مسیحی نور کی ضیاء پاشی ہوئی ہے۔اور محلہ خانیار میں جو مزار عیسی ہے اور عیسی خیل۔یہ مقدس تو ما کی اس مہم کا ہی صحیح نتیجہ ہو سکتے ہیں۔عینی۔۔۔ایسو کا مترادف و معرب لفظ ہے اور یہ نام اول عیسوی عام مستعمل تھا" - موزانہ مذاہب کے مشہور ہسپانوی سکالر اے غیر قیصر (A۔Faber Kaiser) تبریخ کی تحقیق کے لئے خود کشمیر گئے اور انتہائی محنت و قابلیت سے قابل قدر تاریخی معلومات فراہم کر کے ایک ضخیم کتاب شائع کی جس کا نام ہی یہ رکھا کہ (Jesus Died In Kashmir) یسوع کشمیر میں فوت ہوئے۔(ناشر : Gordon Cremones لنڈن) برطانوی سیاح کا انکشاف ایک برطانوی سیاح میکائیل برک (Michael Burke) نے انکشاف کیا ہے کہ ہرات میں انہوں نے ایک قدیم عیسائی فرقہ دیکھا جن کا مذہبی لیڈر با نیچی ہے۔اس فرقہ کے لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح صلیب سے زندہ اتر آئے اور ہجرت کر کے کشمیر تشریف لے گئے اس لئے آپ عیسی بن مریم ناصری کشمیری کہلائے۔برطانوی سیاح لکھتا ہے :- THE FOLLOWERS OF JESUS The followers of Isa, son of Maryam - Jesus the son of Mary۔generally call themselves Moslems and inhabit a number of villages scattered throughout the Western area of Afghanistan whose centre is Herat۔I had heard of them several times, but considered that they were probably people who had been converted by European missionaries from Eastern Persia, or else that they were a relic of the times When Herat had been a flourishing bishopric of the Nestorian rite, before the Arabs conquered Persia in the seventh and eight centuries۔But, form their own accounts and what I could observe, they seem to come from some much older source۔I found them through one of the deputies of the Mir of Gazarga, the descendant of Mohammad under whose protection they are۔Gazarga is the shrine where Abdullah Ansar, a Sufi