تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 523 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 523

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۲۲ تین عظیم الشان علمی انکشافات ہے تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ اٹھی کتابوں میں سے اعلیٰ ارفع اتم اکمل اور خاتم الکتب قرآن مجید اور رسولوں میں سے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔افسوس کتاب "فن الرحمن " نا تمام حالت میں رہ گئی اور اس کی اشاعت کا مرحلہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلافت ثانیہ کے عہد میں جون ۱۹۲۲ء میں آسکا۔مگر اس تحقیق سے متعلق آپ کے بعض خدام نے اپنی خدمات جاری رکھیں۔عربی کی اشاعت و ترویج کے لئے عملی مہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانہ میں عربی کی اشاعت و ترویج کے لئے ایک عملی مہم بھی شروع فرمائی۔یعنی اپنی جماعت کے دوستوں کو تحریک فرمائی کہ وہ عربی زبان ہمیں اور اسے اپنی روزہ مرہ گفتگو میں اظہار خیال کا ذریعہ بنا ئیں۔آپ کے نزدیک کسی زبان کے سیکھنے کی صورت یہ نہیں تھی کہ پہلے صرف و نحو پڑھی جائے بلکہ بہتر طریقہ یہ تھا کہ اسے بولا جائے۔بولنے سے ضروری صرف و نحو خود بخود آجاتی ہے۔چنانچہ اسی لئے حضرت اقدس نے ۱۸۹۵ء میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کو (جو اس وقت ۱۴ برس کے تھے) عربی کا قریباً ایک ہزار نقره ترجمہ سے لکھوایا۔حضور روزانہ پندرہ ہیں کے قریب فقرے لکھو اور یتے اور دوسرے دن سبق من کر اور لکھو دیتے۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی بھی حضرت میر صاحب کے ہم سبق تھے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے سفر کشمیر اور مزار کا انکشاف IA صليب حضرت اقدس مسیح موعود نے اس سال دو سرا انکشاف یہ فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے زخموں سے " مرہم جیسی " یا " مرہم حواریین " کے استعمال سے شفایاب ہونے کے بعد کشمیر تشریف لے آئے اور وفات کے بعد سرینگر محلہ خانیار میں مدفون ہوئے جو اصل شہر سے قریبا تین میل کے فاصلہ پر عام خلائق کی زیارت گاہ اور "یوز آسف نبی " کی قبر سے موسوم ہے۔اس انکشاف کا منظر عام پر آنا تھا کہ عیسائیوں اور مسلمانوں دونوں کی طرف اس کی زبر دست مخالفت شروع ہو گئی۔عیسائی پادریوں نے تو اس قبر کو محض ایک چبوترہ قرار دیتے اور حضور کے دلائل کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ بعض عیار تکیہ دار جہلاء کے سامنے مشہور کر دیتے ہیں کہ فلاں مقام پر کسی ولی یا شہید کا مزار ظاہر ہو گیا تاکہ عورتیں منتیں مانا اور چادریں چڑھانا شروع کر دیں۔یہ خانیار کا چبوترہ