تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 520 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 520

تاریخ احمدیت جلدا ۵۱۹ تین عظیم الشان علمی انکشافات مہانوں سے ملاقات فرماتے تھے۔لیکن جب اس سال کے دوران میں حضرت میر ناصر نواب صاحب ہجرت کر کے آگئے تو مہمان خانہ گول کمرہ سے فصیل کی جگہ پر تیار شدہ عمارت میں منتقل ہو گیا اور حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ نے اس کے آگے دیوار کھینچ کر بود و باش اختیار کرلی۔کتب خانہ بھی فصیل کی جگہ پر نئی عمارت میں قائم ہوا۔جس کے اولین مہتمم حکیم کتب خانہ فضل دین صاحب بھیروی قرار پائے۔گو نام کے لحاظ سے تو یہ حضرت مولانا نور الدین صاحب کا مطلب کہلاتا تھا مگر عملاً اسے بھی مستقل ادارہ کی حیثیت حاصل تھی۔جو حضرت حکیم الامت کے طبی اور روحانی کمالات کی تجربہ گاہ بھی تھا اور درسگاہ بھی۔باوجود یکہ غریبوں اور حاجتمندوں کا علاج یہاں بالعموم مفت کیا جاتا A اور بڑی بیش بہا ادویہ مفت دے دی جاتیں۔مگر پھر بھی اس کا فیض عام ہمیشہ جاری رہتا۔اور وہ وہ غیبی برکتیں ظہور میں آئیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے۔یہ ادارہ حضرت خلیفتہ المسیح اول کی زندگی میں ملک بھر کے مریضوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب مد ظلہ العالی کی ولادت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کے مقابل نصرت و تائید کے نشان کے طور پر ۱۸۹۴ء میں بشارت دی گئی تھی کہ آپ کو ایک فرزند عطا کیا جائیگا اور آپ نے انوار الاسلام" (صفحہ ۲۹ حاشیہ) میں تحمیل از وقت اس کی خبر بھی شائع فرما دی۔چنانچہ اس کے عین مطابق حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب سلمہ اللہ تعالٰی ۲۷ ذیقعده ۱۳۱۲ھ مطابق ۲۴ مئی ۱۸۹۵ء کو تولد ہوئے۔آپ کی پیدائش پر عالم کشف میں حضور نے دیکھا کہ آسمان سے ایک روپیہ اترا اور آپ کے ہاتھ پر رکھا گیا۔روپیہ پر " معمر الله" کے الفاظ لکھے تھے۔آپ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اور بھی کئی بشارتیں ہوئیں۔چنانچہ حضور لکھتے ہیں " ایک دفعہ ہم نے عالم کشف میں اسی لڑکے شریف احمد کے متعلق کہا تھا کہ اب تو ہماری جگہ بیٹھے اور ہم چلتے ہیں۔اس کشف کے چند سال بعد حضور کو آپ کے متعلق ایک اور خواب دکھایا گیا۔جس کی تفصیل حضور نے یہ بیان فرمائی کہ " شریف احمد کو خواب میں دیکھا کہ اس نے پگڑی باندھی ہوئی ہے اور دو آدمی پاس کھڑے ہیں۔ایک نے شریف احمد کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ بادشاہ آیا۔دوسرے نے کہا ابھی تو