تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 514
تاریخ احمدیت جلدا ۵۱۳ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے دیوانہ بیشک پولیس کی نگرانی میں ہے۔جب کبھی وہ باہر تبلیغ کے لئے جاتا ہے امن عامہ میں بڑے فساد کا نوری خطرہ ہوتا ہے۔کیونکہ اس کے مانے والے بے شمار ہیں اور وہ مذہبی جنون میں اس سے کچھ ہی کم ہیں۔اس نوع کے انسان کے لئے بے معنی تصورات سے کسی سیاسی خطرہ کا اندیشہ تو نہیں ہو سکتا۔لیکن اس کی دیوانگی میں بھی ایک سلیقہ ہے۔اس کی ادبی قابلیت مسلمہ ہے۔اس کی تصنیفات بہت ہیں اور عالمانہ ہیں۔اس میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جن کی ترکیب سے ایک خطر ناک مرکز بنا کرتا ہے"۔اس کی نظر میں سب کچھ ملعون جادوگروں کا طلسم ہے۔بدی اور نیکی کا مقابلہ ہے۔خدا ایک طرف ہے اور شیطان دوسری طرف۔اگر وہ عالم خیال سے نکل کر میدان عمل میں قدم رکھ لے۔تو اس کی عجیب انتہا پسندیوں کی حدود کا تعین کرنا ممکن نہیں ہو گا۔اس کی باتوں میں ایک دبی ہوئی دہشت ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امکانی طور پر وہ ایک خطر ناک ہلالی ہے اور جیسے اس کے سب مراح سمجھتے ہیں وہ صرف ایک سادہ آدمی نہیں ہے۔ممکن ہے اس کے مداحوں کو اس کا کچھ مطلب معلوم ہو۔(خصوصاً موجودہ سرسری بحث کے بعد) اور ہمیں اپنی رائے کے خلاف قائل کر سکیں ، قادیان کا مولوی سالہا سال سے ہمارے زیر نظر رہا ہے۔اور ہم اپنی ذاتی معلومات کی بناء پر جو ہمیں اس کی ذات اور اس کے کام کے متعلق حاصل ہیں مندرجہ بالا رائے کی پوری طرح تائید کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک وہ طاقت پکڑ رہا ہے اور غالبا مستقبل قریب میں ہم پر یہ فرض عائد ہو جائے گا کہ ہم اس کی طرف زیادہ تفصیل سے توجہ دیں"۔اب چونکہ متحدہ محاذ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا انگریزی حکومت کو اختاه امام ہو چکا تھا۔اور نیم سرکاری پریس میں بھی حضرت اقدس کے خلاف پر زور آواز اٹھنی شروع ہو گئی تھی۔اس لئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے پادریوں کا سہارا لے کر حکومت کو کھلم کھلا اختیاہ کرنا شروع کیا کہ گورنمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر حذر رہنا ضروری ہے۔ورنہ اس مہدی کاریانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے نہیں پہنچا۔حضرت مسیح موعود کا دفاع یہ خطر ناک پراپیگنڈہ جب زور پکڑ گیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس کا دفاع کرنے کے لئے قلم اٹھایا۔چنانچہ حضور نے ابتداء " شہادت القرآن" پھر "نور الحق" کے ذریعہ سے حکومت کو اس بے بنیاد الزام کی طرف توجہ دلائی۔نیز اشاعۃ السنہ (۱۸۸۴ء جلد نمبر ۷ - ۲) سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی تحریر کا وہ اقتباس شائع کیا۔جس میں انہوں نے حضور کے آباء و اجداد کی خدمات کا تذکرہ کر کے انگریزی حکام کی