تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 515
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۱۴ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے مندوں پر نقول درج کی تھیں۔اس کے بعد جب اس پراپیگنڈہ نے زیادہ وسعت اختیار کرنا شروع کی۔تو آپ نے ملکہ وکٹوریہ گورنر جنرل اور لفٹنٹ گورنر پنجاب اور دیگر حکام کے نام ۱۰- دسمبر ۱۸۹۴ء کو با قاعدہ ایک اشتہار شائع کرتے ہوئے یہ تاریخی حقائق دوبارہ پیش کئے۔مگر صورت حال نازک ہوتی چلی گئی۔یہاں تک کہ خود مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا کہ مرزا صاحب کے خطوط کا جواب تو رہا ایک طرف انگریزی حکام آپ کے تردیدی بیانات کو قابل التفات ہی نہیں سمجھتے D اس رویہ نے آپ کے خلاف سیاسی محاذ قائم کرنے والوں کو بڑی تقویت پہنچائی۔اور وہ متحد ہو کر آپ کے خلاف خطرناک منصوبے سوچنے لگے۔۱۸۹۴ء کے بعض صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی پر ۱۸۹۴ء میں ایمان لانے والے بعض بزرگوں کے نام یہ ہیں:- (۱) حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی - (۲) حضرت مولانا حسن علی صاحب مسلم مشنری م م (۳) حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب سابق جگت سنگھ - E (۴) حضرت منشی امام دین صاحب پٹواری - (۵) جناب خواجہ کمال الدین صاحب 1