تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 511 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 511

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۱۰ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے جماعت پیدا ہو رہی ہے جو ان کے لئے مستقبل میں بہت بڑا خطرہ ثابت ہو گی۔چنانچہ اسی سال ۱۸۹۴ء میں لندن میں پادریوں کی ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔جس میں لارڈ بشپ آف گلوسٹر ریورنڈ چارلس جان ایلی کوٹ نے احمدیت کے متعلق نہایت درجہ تشویش و اضطراب کا اظہار کر کے دنیا بھر کے عیسائیوں کو مطلع کیا کہ اسلام میں ایک نئی حرکت کے آثار نمایاں ہیں مجھے ان لوگوں نے جو صاحب تجربہ ہیں بتایا ہے کہ ہندوستان کی برطانوی مملکت میں ایک نئی طرز کا اسلام ہمارے سامنے آرہا ہے۔اور اس جزیرے میں بھی کہیں کہیں اس کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔یہ ان بدعات کا سخت مخالف ہے جن کی بناء پر محمد کامذ ہب ہماری نگاہ میں قابل نفرین قرار پاتا ہے۔اس نئے اسلام کی وجہ سے محمد کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہوتی جاری ہے۔یہ نئے تغیرات باسانی شناخت کئے جاسکتے ہیں۔پھر یہ نیا اسلام اپنی نوعیت میں مدافعانہ ہی نہیں بلکہ جارحانہ حیثیت کا بھی حامل ہے افسوس ہے تو اس بات کا کہ ہم میں سے بعض کے ذہن اس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔(انگریزی سے ترجمہ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف متحدہ سیاسی محاذ اور بغاوت کا الزام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مدتوں سے برطانوی افسروں سے بڑے گہرے مراسم تھے اور حکومت کے اونچے طبقے میں تو انہیں دوسرے علماء کے مقابل یہاں تک عزت و احترام سے دیکھا جاتا تھا کہ غدر ۱۸۵۷ء کے حالات کے باعث وہابی فرقہ بے حد معتوب تھا۔مگر محض ان کی ذاتی کوشش اور درخواست پر ۱۹ - جنوری ۱۸۸۷ء کو ان کی جماعت کے لئے سرکاری نام " اہلحدیث " تسلیم کیا گیا۔اور سرکاری کاغذات میں لفظ وہابی کا استعمال خلاف قانون قرار دیا گیا۔ان کا اپنا بیان ہے کہ اس کی معروضات بحق اہلحدیث گورنمنٹ میں عزت و اعتبار سے سنی جاتی تھیں"۔یہی وجہ ہے کہ مارچ ۱۸۸۷ء میں جب سی۔یوایچیسن لفٹنٹ گورنر پنجاب عمدہ گورنری سے رخصت ہوئے تو انہوں نے مولوی صاحب کو ایک خصوصی سرٹیفکیٹ دیا کہ ابو سعید محمد حسین فرقہ اہلحدیث کے ایک سرگرم مولوی اور اس فرقہ اسلام کے وفادار اور ثابت قدم وکیل ہیں۔ان کی علمی کوششیں (یعنی تصانیف) لیاقت سے ممتاز ہیں۔نیز وہ ملکہ معظمہ کی وفادار رعایا میں سے ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب نے گورنمنٹ انگریزی کی جو خدمات سرانجام دی تھیں وہ اتنی شاندار تھیں کہ حکومت نے