تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 508
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۰۷ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے جسے رہے کہ اس پیشگوئی میں کسی کے فوت ہونے کی صریح لفظ موت سے خبر نہیں دی گئی ہے "۔اور ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ اقرار نہیں کیا کہ عیسائیوں کے دونوں رکن پیشگوئی کے مطابق مرے ہیں لیکن جب پادری آتھم نے حق کی طرف رجوع کرنے کی وجہ سے کچھ دنوں زندہ رہنے کی مہلت پا لی تو انہوں نے بہت خوش ہو ہو کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ آتھم صاحب کے لئے جو موت کی پیشگوئی تھی۔وہ پوری نہیں ہوئی اور اسے کتابوں اخباروں رسالوں اور اشتہاروں میں شائع کیا اور ان میں سے بعض نے تو اپنے مقام پر خوشی کے اظہار کو کافی نہ سمجھ کر عیسائیوں کے اس جلوس میں شریک ہونا بھی ضروری خیال کیا۔جو انہوں نے پیشگوئی پوری نہ ہونے اور مسٹر آتھم کے موت سے بچ جانے پر خوشی و شاد بانی ظاہر کرنے کے لئے نکالا تھا۔عیسائی فریق مباحثہ پر حق کی طرف رجوع نہ کرنے کی حالت میں عذاب آنے کی پیشگوئی کے مطابق جب اس کے دو رکن پیشگوئی کی میعاد معینہ کے اندر مرجاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اس پیشگوئی میں تو کسی کے فوت ہونے کی صریح لفظ موت سے خبر ہی نہیں دی گئی تھی۔پھر ان دونوں کے مرجانے کا پیشگوئی سے کیا تعلق۔اور جب عیسائی فریق کا ایک فرد رجوع کی شرط پر عمل کرنے کی وجہ سے پیشگوئی کی میعاد معینہ کے اندر نہیں مرتا تو کہا جاتا ہے کہ اس کے تو مرنے کی پیشگوئی تھی جو اس کے میعاد پیشگوئی کے اندر نہ مرنے کی وجہ سے جھوٹی نکلی بحالیکہ دونوں مرنے والوں اور تیسرے نہ مرنے والے کے لئے علیحدہ علیحدہ دو پیشگوئیاں نہیں تھیں بلکہ پیشگوئی صرف ایک ہی تھی اور اس کی عبارت بھی ایک اور مرنے والے اور نہ مرنے والا تینوں اسی ایک عبارت کے تحت ہیں اس حالت میں دو مرنے والوں کے لئے تو عبارت سے موت مراد نہ لینا اور تیسرے کے لئے موت مراد لینا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔لیکن چونکہ مکذب علماء کا مقصد بہر حال پیشگوئی کو جھٹلانا تھا۔اس لئے انہیں جس موقعہ پر جو صورت اپنے مقصد کی تکذیب کے لئے مفید نظر آئی انہوں نے حق و ناحق اور درست و نادرست کے خیال کو بالائے طاق رکھ کر وہی صورت اختیار کرلی۔حقیقت یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں فریق مخالف کے لئے بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے موت ہی کی خبر دی گئی تھی۔اور حضرت اقدس نے اس وقت اس کی صراحت بھی فرما دی تھی کہ فریق مخالف کے ہادیہ میں ڈالے جانے سے یہ سزائے موت ہادیہ میں ڈالا جانا مراد ہے بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے چونکہ آتھم صاحب نے حق کی طرف رجوع کیا اس لئے وہ کچھ دنوں بڑے ہادیہ میں پڑنے سے بچے رہے اور جب اس سے رو گردانی کی تو ہادیہ میں جا پڑے۔اور ان کے حق کی طرف رجوع کرنے کا ثبوت او پر بھی گزر چکا ہے اور آگے بھی آتا ہے۔