تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 506 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 506

تاریخ احمدیت جلدا ۵۰۵ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے مہینے تک ان کی آنکھوں کے سامنے ایسے عجیب رنگ میں موجود رہی کہ جس کا وہم و گماں بھی نہیں ہو کتا تھا۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مباحثے کے معا بعد عبد اللہ آتھم صاحب حواس باختہ سے ہو گئے اور انہیں خدائی تصرف کے تحت مختلف دہشتناک نظاروں میں خونی سانپ نظر آنے لگے جن کی نسبت انہوں نے یہ بتایا کہ وہ تعلیم یافتہ " سانپ تھے۔جن کو مرزا صاحب کی جماعت نے میرے ڈسنے کے لئے چھوڑ رکھا تھا۔یہ پیشگوئی کی عظمت و ہیبت کی ابتداء تھی جس نے بالاخر انہیں اس درجہ خوف زدہ کر دیا۔کہ وہ اپنی عالی شان کو ٹھی چھوڑ کر امر تسر سے لدھیانے چلے جانے کو جہاں ان کا داماد رہتا تھا مجبور ہو گئے لدھیانے میں ان کو سانپ دکھائی نہیں دیئے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک خوفناک حالت پیدا ہو گئی کہ بعض نیزوں سے مسلح آدمی انہیں نظر آنے لگے اور انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ قریب ہی آپہنچے ہیں۔اور انہیں قتل کیا چاہتے ہیں۔اس نظارہ کے بعد آتھم صاحب گریہ وزاری میں جتلا ہو گئے۔اور ہر وقت ایک پوشیدہ ہاتھ کا خوف ان پر مسلط رہنے لگا۔یہاں تک کہ انہیں اس کو ٹھی سے بھی وحشت ہونے لگی اس پر وہ اپنے دوسرے داماد کی طرف دوڑے جو فیروز پور میں تھا۔لیکن یہاں بھی انہیں چین نصیب نہ ہوا بلکہ یہاں وہ نظارے پہلے سے بہت زیادہ ہیبت ناک شکل اختیار کر گئے۔مسٹر آتھم ایک تجربہ کار اور جہاندیدہ سرکاری افسر تھے جو ایک مدت دراز تک اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر کے عہدہ پر فائز رہے تھے۔وہ چاہتے تو چارہ جوئی کر کے سرکاری طور پر اپنے حریف سے باضابطہ مچلکہ لکھوا سکتے تھے۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک اور دوسرے عیسائیوں نے انہیں بار بار اس طرف توجہ دلائی۔مگر چونکہ ان کا دل جانتا تھا کہ سانپوں اور نیزے والوں کے ان نظاروں میں کسی انسان کا کوئی دخل نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس کے جواب میں دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے۔عیسائیوں نے جب یہ حال دیکھا تو انہوں نے انہیں شراب پلا پلا کر مد ہوش رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہ پایا۔اسی دوران میں ہادیہ سے متعلق پیشگوئی کی میعاد کا آخری دن آگیا۔اس دن آتھم صاحب کی کوٹھی کے پہرہ کا انتظام جس انسپکٹر پولیس کے سپرد تھا اس نے بعد کو بیان کیا کہ کوٹھی کے اندر آتھم صاحب کے دوست پادری وغیرہ تھے اور باہر چاروں طرف پولیس کا پہرہ تھا اس وقت آتھم صاحب کی حالت سخت گھبراہٹ کی تھی۔اتفاقا با ہر دور سے کسی بندوق کے چلنے کی آواز آئی۔اس پر آتھم صاحب کی حالت یک لخت دگرگوں ہو گئی۔آخر جب ان کا کرب اور گھبراہٹ انتہاء کو پہنچ گئی تو ان کے دوستوں نے ان کو بہت زیادہ شراب پلا کر بے ہوش کر دیا وہ آخری رات آتھم صاحب نے اسی حالت میں گزاری۔صبح ہوئی تو ان کے دوستوں نے ان کے گلے میں ہار پہنائے اور ان کو گاڑی میں بٹھا کر جلوس نکالا۔اس دن لوگوں میں شور