تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 495 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 495

تاریخ احمدیت۔جلدا ۹۷ " تحفہ بغداد "کرامات الصادقین " اور " شہادۃ القرآن" ة کشتی کی طرح بھرا ہوا ہے اور حضرت اقدس کو بھی بقدر حصہ اسدی بلکہ تھوڑا سا ایک حصہ رہنے کو ملا ہوا ہے اور آپ اس میں یوں رہتے ہیں جیسے سرائے میں کوئی گزارہ کرتا ہے۔اور اس کے جی میں کبھی نہیں گزرتا کہ یہ میری کو ٹھڑی ہے "۔حضرت مولانا نورالدین کی ہجرت کا ایمان افروز واقعہ حضرت مولانانور الدین اپنی ہجرت کا ایمان افروز واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ (ریاست کی ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد ) بھیرہ میں پہنچ کر میرا ارادہ ہوا کہ میں ایک بہت بڑے پیمانہ پر شفاخانہ کھولوں اور ایک عالی شان مکان بنالوں وہاں میں نے ایک مکان بنایا ابھی وہ نا تمام ہی تھا اور غالبا سات ہزار روپیہ اس پر خرچ ہونے پایا تھا کہ میں کسی ضرورت کے سبب لاہور آیا اور میرا جی چاہا کہ حضرت صاحب کو بھی دیکھوں اس واسطے میں قادیان آیا۔چونکہ بھیرہ میں بڑے پیمانہ پر عمارت کا کام شروع تھا۔اس لئے میں نے واپسی کا یکہ کرایہ کیا تھا۔یہاں آکر حضرت صاحب سے ملا اور ارادہ کیا کہ آپ سے ابھی اجازت لے کر رخصت ہوں آپ نے اثنائے گفتگو میں مجھ سے فرمایا کہ اب تو آپ فارغ ہو گئے ہیں۔میں نے کہا ہاں اب تو فارغ ہی ہوں۔یکہ والا سے میں نے کہدیا کہ اب تم چلے جاؤ۔آج اجازت لینا مناسب نہیں ہے کل پر سوں اجازت لیں گے اگلے روز آپ نے فرمایا کہ آپ کو اکیلے رہنے میں تو تکلیف ہو گی آپ اپنی ایک بیوی کو بلوالیں۔میں نے حسب الار شاد بیوی کے بلانے کے لئے خط لکھ دیا۔اور یہ بھی لکھ دیا کہ ابھی میں شاید جلد نہ آسکوں اس لئے عمارت کا کام بند کر دیں۔جب میری بیوی آگئی تو آپ نے فرمایا کہ آپ کو کتابوں کا بڑا شوق ہے لہذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ اپنا کتب خانہ منگوالیں۔تھوڑے دنوں کے بعد فرمایا کہ دوسری بیوی آپ کی مزاج شناس اور پرانی ہے آپ اس کو ضرور بلالیں۔لیکن مولوی عبد الکریم صاحب سے فرمایا کہ مجھ کو نور الدین کے متعلق الہام ہوا ہے اور وہ شعر کچھ تبدیلی کے ساتھ ) حریری میں موجود ہے۔У تصبون الى الوطن فيه تهان و تمتحن حضرت مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے یہ بھی فرمایا کہ اپنے وطن کا خیال تک بھی نہ کرنا۔چنانچہ خدا تعالٰی کے بھی عجیب تصرفات ہوتے ہیں میرے واہمہ اور خواب میں بھی پھر مجھے وطن کا خیال نہ آیا۔پھر تو ہم قادیان کے ہی ہو گئے۔سفر فیروز پور