تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 496
تاریخ احمد بیت۔جلدا ۴۹۵ " تحفہ بغداد " "کرامات الصادقين " اور " شہادۃ القرآن" حضرت مسیح موعود نے نومبر ۱۸۹۳ء میں فیروز پور چھاؤنی کا سفر اختیار فرمایا۔جہاں حضرت میر ناصر نواب صاحب محکمہ نہر میں ملازم تھے۔اہل بیت کے علاوہ آپ کے ہمراہ منشی غلام محمد صاحب خوشنویس امرتسری - سید محمد سعید صاحب اور حامد علی صاحب بھی تھے کیونکہ عربی رسائل کی تالیف و تصنیف کا کام جاری تھا۔۱۴- دسمبر ۱۸۹۲ء کو حضور فیروز پور سے روانہ ہوئے۔حضرت اقدس فیروز سے واپسی پر دوران سفر میں لاہور اسٹیشن کے پاس ایک مسجد میں وضو فرما رہے تھے کہ پنڈت لیکھرام حضور سے ملنے کے لئے آیا اور اگر سلام کیا مگر حضور نے کچھ جواب نہیں دیا۔اس نے اس خیال سے کہ شاید آپ نے سنا نہیں دوسری طرف سے ہو کر پھر سلام کیا۔مگر آپ نے پھر بھی توجہ نہیں کی۔اس کے بعد حاضرین میں سے ایک خادم نے کہا کہ حضور ا پنڈت لیکھرام نے سلام کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سنتے ہی بڑے جوش سے فرمایا۔اسے شرم نہیں آتی۔ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور سے گاڑی میں امرت سر پہنچے اور شیخ نور احمد صاحب کے ہاں فروکش ہوئے۔حضور کے درود کی خبر فور اتمام شہر میں پھیل گئی اور لوگ بکثرت ملاقات کے لئے آنے لگے اور آپ کے دعوئی سے متعلق سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔حضرت اقدس نے حضرت مسیح ناصری کی وفات سے متعلق کئی آیات پیش فرما ئیں۔ایک شخص نے عرض کیا آج کل مولود شریف کی مجالس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا ذکر آتا ہے تو لوگ تعظیماً کھڑے ہو جاتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں۔حضور نے فرمایا جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نظر آجا ئیں۔وہ بے شک کھڑا ہو جائے۔حضور یہاں دو ایک روز قیام فرمانے کے بعد قادیان تشریف لے گئے۔۱۸۹۳ء کے بعض صحابہ ۱۸۹۳ء میں جو وجود آسمانی تحریک سے وابستہ ہوئے۔ان میں سے حضرت قاضی امیر حسین صاحب بھیروی اور حضرت میر مهدی حسین صاحب بالخصوص قابل ذکر ہیں۔