تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 493 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 493

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۷۹۲ " تحفہ بغداد " "کرامات الصادقین " اور " شہادۃ القرآن" قادیان کی طرف (مستقل رنگ میں) ہجرت کا آغاز گود عوئی مسیحیت کے بعد ہی قادیان کی طرف ہجرت کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔مگر مستقل رنگ میں پہلی ہجرت اسی سال حضرت مولانا نور الدین صاحب نے کی۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہیں اول المهاجرین قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔” سب سے پہلے مولوی نور الدین صاحب نے اس راز کو سمجھا ہے اور وہ محض خدا کی رضامندی کے واسطے اور دین کو حاصل کرنے کے واسطے یہاں اگر جنگل میں بیٹھے ہیں۔انہوں نے بہت بڑی قربانی کی ہے اپنی جائیدادیں اور املاک چھوڑیں اور ایک جنگل کی رہائش اختیار کی۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مولوی صاحب جیسی قابلیت اور لیاقت کا آدمی اگر لاہو ریا امرتسر میں رہتا تو بہت بڑا د یوی فائدہ اٹھا سکتا تھا۔اور کئی بار لاہور اور امر تسر والوں نے چاہا بھی کہ وہ یہاں آکر رہیں مگر انہوں نے کبھی یہاں کے رہنے پر دوسری جگہ کی آمدنی اور فوائد کو ترجیح نہیں دی۔" حضرت مولانا نور الدین صاحب کے بعد خدا کے مسیح کی مقدس بستی کی طرف ہجرت کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔چنانچہ آپ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں جن بزرگوں نے ہجرت کی ان میں سے چند کے نام یہ ہیں۔نام من ہجرت نام من ہجرت حضرت مولانا عبد الکریم صاحب ۱۸۹۳ء غالبیان حضرت مفتی محمد صادق صاحب جولائی ۱۹۰۰ ء ما حضرت شیخ محمد اسمعیل صاحب سرساوی ۱۸۹۴ء حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب حضرت میر ناصر نواب صاحب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب حضرت ماسٹر فقیر اللہ صاحب حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب ۱۶۱۸۹۵ حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب ۱۶۱۸۹۵ ۱۸۹۵ء ايضا حضرت پیر افتخار احمد صاحب حضرت میر مهدی حسین صاحب حضرت نواب محمد علی خان صاحب ايضا حضرت حافظ روشن علی صاحب ١٨٩٩ء حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب B۶۱۸۹۷ 171941 مولوی محمد علی صاحب جون ۱۸۹۹ء حضرت بابو محمد الفضل صاحب حضرت منشی قدرت اللہ خان صاحب شاہجہانپوری ۶۱۸۹۹ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل - ۱۹۰۶ ۶۱۹۰۲ حضرت قاضی امیر حسین صاحب ، حضرت حکیم فضل الدین صاحب - حضرت سید ناصر شاہ صاحب