تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 490 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 490

تاریخ احمدیت جلدا ۴۸۹ " تحفہ بغداد " "کرامات الصادقین " اور " شمارۃ القرآن " " تحفہ بغداد"۔"کرامات الصادقین" اور شهادة القرآن" کی تصنیف و اشاعت مباحثہ امرت سر سے واپسی کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے ۱۸۹۳ء کے آخر تک تحفہ بغداد" - "کرامات الصادقین " اور "شہادۃ القرآن" کے نام سے تین اور تصانیف فرمائیں۔جو اسی سال شائع بھی ہو گئیں۔اس کتاب کی وجہ تصنیف یہ ہوئی کہ بغداد کے ایک شخص سید عبدالرزاق قادری تحفہ بغداد نقشبندی نے "التبلیغ " پڑھ کر حیدر آباد سے ایک عربی اشتہار شائع کیا جس میں نہایت درجہ دریدہ دہنی سے کام لیا۔حضرت اقدس نے اس اشتہار کے پہنچتے ہی اس کے جواب میں (محرم ۱۳۱۱ھ بمطابق جولائی ۱۸۹۳ء کو) " تحفہ بغداد" کے نام سے ایک لاجواب رسالہ شائع فرمایا۔جس میں آپ نے اصل اشتہار اور مکتوب درج کر کے نہایت فصیح بلیغ عربی میں علماء کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا بڑی خوبی سے رد کیا۔اپنے دعویٰ سے متعلق زیر دست دلائل دیئے اور اسے نہایت محبت بھرے الفاظ میں تبلیغ فرمائی۔سید عبدالرزاق نے اپنے اشتہار میں لکھا تھا کہ تین مہینے میں آئینہ کمالات اسلام کا رد لکھ کر اسے مران و بغداد میں پھیلا دوں گا۔لیکن اب جو " تحفہ بغداد پہنچا تو اسے دم مارنے کی مجال نہ ہوئی۔کرامات الصادقین جب سے حضرت اقدس نے خدا کے حکم سے دعوئی مسیحیت فرمایا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں بڑے زور شور سے آپ کے خلاف یہ پراپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ یہ شخص نعوذ باللہ اس قدر جاہل اور علوم عربیہ سے بے بہرہ ہے کہ ایک صیغہ بھی صحیح طور پر اس کے منہ سے نہیں نکل سکتا۔جب یہ پراپگینڈا عروج پر تھا اللہ تعالٰی نے حضور کو بشارت دی کہ اگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یا کوئی دوسرا ان کا ہم مشرب مقابلہ پر آئے تو شکست فاش اٹھا کر سخت ذلیل ہو گا۔جس پر حضور نے ۳۰ مارچ ۱۸۹۳ء کو بذریعہ اشتہار مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو چیلنج دیا کہ وہ چالیس دن آپ کے مقابل قرعہ اندازی سے قرآن مجید کی کسی سورۃ کی فصیح بلیغ اور مقفی عربی عبارت میں تفسیر لکھیں جس میں معارف جدیدہ ہوں۔اگر مولوی صاحب حقائق و معارف کے بیان کرنے اور فصیح و بلیغ عربی لکھنے میں آپ کے برابر بھی رہے تو آپ اپنی خطا کا اقرار کر لیں گے۔اور اپنی کتابیں جلا دیں گے لیکن اگر حضور غالب ہوئے تو مولوی