تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 477
تاریخ احمدیت جلدا آئینہ کمالات اسلام کی تصنیف و اشاعت ۷۲۸ء کے آخر میں قیصر و کسری کو پہنچایا تھا۔یعنی آپ نے لکھا۔” یا ملیکہ الارض اسلمی تسلمين " اے ملکہ مسلمان ہو جا تو اور تیری سلطنت محفوظ رہے گی۔خط کے آخر میں حضور نے اسے محض اللہ نصیحت فرمائی کہ اے ملکہ مسلمانوں کی طرف خاص نظر کرنا اور ان کی اکثریت کو حکومت کے معاملات میں اپنا مقرب و مصاحب بنانا کیونکہ تو ان کی اس ریاست پر قابض ہوئی ہے جس پر وہ ایک ہزار سال تک اپنا پرچم لہراتے رہے ہیں پس خدا کے اس انعام پر اپنے رب کا شکر ادا کر اور مسلمانوں پر فدا ہو جا کہ خدا تصدق ہو جانے والوں کو پسند فرماتا ہے۔حکومت کا اصل مالک خدا ہے وہ جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا۔اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ملکہ وکٹوریہ کو جب یہ دعوت ملی تو اس نے حضرت اقدس کی خدمت میں شکریہ کا خط ارسال کیا اور خواہش ظاہر کی کہ حضور اپنی تمام تصانیف انہیں بھجوائیں۔عمر کے آخری حصہ میں ملکہ کو اسلام سے خاص محبت و الفت پیدا ہو گئی تھی۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعظیم کرتی تھیں۔اور انہوں نے ایک ذی علم مسلمان سے اردو بھی پڑھنا شروع کر دیا تھا۔حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف کا خراج عقید تبلیغ اسلام کا میں وہ مجاہدانہ کارنامہ تھا جسے چاچڑاں شریف سابق ریاست بہاولپور کے ایک صاحب کشف بزرگ خواجہ غلام فرید صاحب نے (جن کے ارادتمندوں کا حلقہ بہت وسیع ہے) بہت سراہا۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔”ہمہ اوقات مرزا صاحب عبادت خدا عزو جل میگذارند یا نماز می خواند یا تلاوت قرآن شریف میکنند یا دیگر شغل اشغال مینماید و بر حمایت اسلام و دین چناں کمر همت بسته که ملکه زمان لندن را نیز دعوت دین محمدی کرده است و بادشاه روس و فرانس و غیر ہمارا ہم دعوت اسلام نموده است و همه سعی و کوشش اوا نیست که عقیده مثلیت و صلیب را که سراسر کفر است بگذارند و تبوحید خداوند تعالی بگردند - و علماء وقت را به بینید که دیگر گروه مذاہب باطله را گذاشته صرف در پے ایس چنین نیک مرد که از اهل سنت و جماعت است و بر صراط مستقیم است در راه برات می نماید افتاده اند و بردی حکم تکفیر می سازند - کلام عربی او به بینید که از طاقت بشریه خارج است و تمام کلام او مملو از معارف و حقائق است" یعنی حضرت مرزا صاحب اپنے تمام اوقات عبادت الہی دعا نماز تلاوت قرآن اور اسی نوع کے دوسرے مشاغل میں گزارتے ہیں۔دین اسلام کی حمایت کے لئے آپ نے ایسی کمر ہمت باندھی ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کو لندن میں دعوت اسلام بھیجی ہے اسی طرح روس فرانس اور دوسرے ممالک کے بادشاہوں کو اسلام کا پیغام دیا ہے۔آپ کی تمام تر سعی جد و جہد یہ ہے LA -