تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 476 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 476

تاریخ احمدیت جلدا۔۴۷۵ آئینہ کمالات اسلام" کی تصنیف و اشاعت کے عربی قصائد وغیرہ اپنی کی تصنیف ہوتے تو مرزا صاحب کے اس کذب و دروغ پر کہ یہ سب کچھ خود انسی کی فکر کا نتیجہ ہے سب سے پہلے مولوی نور الدین ہی معترض ہو کر اس جماعت سے علیحدہ ہو جاتے۔حالانکہ مرزا صاحب کے بعد وہی خلافت کے مستحق قرار دیئے گئے یہ قصیدہ نہ صرف اپنی لسانی وفتی خصوصیات بلکہ اس والہانہ محبت کے لحاظ سے جو مرزا صاحب کو رسول اللہ سے تھی بڑی پر اثر چیز ہے یہ قصیدہ اس شعر سے شروع ہوتا ہے۔يا عَيْنَ فَيْضِ اللَّهِ وَالْعِرْفَانِ يسعى اليْكَ الْخَلْقُ كَالثَّمَانِ اور اختتام اس شعر پر ہوتا ہے :- فارسی نعت جسمي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقِ عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قَوَّةُ الطَّيَرَانِ۔اس عربی قصیدہ کے علاوہ جو "التبلیغ میں شامل تھا حضرت اقدس نے "آئینہ کمالات اسلام میں ایک بلند پایہ فارسی نعت بھی رقم فرمائی اس نعت کا مطلع یہ ہے۔عجب عجب نوریست لعلیست جان محمد ور كان یہی وہ نعت ہے جس کے ایک شعر سے متعلق جماعت احمدیہ کا ایک شدید مخالف اخبار "آزاد" بھی یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ کی تعریف و توصیف میں گزشتہ انبیاء و مرسلین سے لے کر صلحائے امت تک نے بہت کچھ کہا ہے مگر حقیقی تعریف اسی شعر میں بیان کی گئی ہے که اگر محمد خواری دلیلے عاشقش باش بست برہان مجھ تبلیغ " کا فارسی ترجمہ مولانا عبد الکریم صاحب کا کیا ہوا ہے ملکہ وکٹوریہ کو دعوت اسلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آئینہ کمالات اسلام میں ملکہ وکٹوریہ (۱۸۱۹ - ۱۹۰۱) کو ایک خط کے ذریعہ سے دعوت اسلام دی جس میں آپ نے آنحضرت ﷺ کے حقیقی خادم ہونے کی حیثیت سے ملکہ وکٹوریہ کو انہی الفاظ میں حق کا پیغام پہنچایا۔جن الفاظ میں آنحضرت نے