تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 475 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 475

تاریخ احمدیت۔جلدا انگیز کمالات اسلام " کی تصنیف و اشاعت صاحب کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا وہ رات والے علماء انہیں دکھلا بھی تو دو۔اس وقت حضور نے مولانا عبد الکریم صاحب کو بھی رات کا واقعہ سنایادہ بھی پہنے لگے حضرت منشی صاحب نے محمد چراغ اور معین الدین کو بلا کر مولوی صاحب موصوف کے سامنے کھڑا کر دیا وہ مولوی صاحب ان دونوں علماء " کو دیکھ کر چلے گئے اور ایک بڑے تھال میں شیرینی لے آئے اور اپنے بارہ ساتھیوں سمیت حضور کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔"التبلیغ" کے آخر میں سرور کونین ﷺ کی شان اقدس میں قصیدہ مدحیہ حضرت مسیح موعود نے آنحضرت ﷺ کی شان اقدس میں ایک معجزہ نما عربی قصیدہ بھی رقم فرمایا جو چودہ سو سال کے اسلامی لٹریچر میں آپ ہی اپنی نظیر ہے۔جب حضور یہ قصیدہ لکھ چکے تو آپ کا روئے مبارک فرط مسرت سے چمک اٹھا اور آپ نے فرمایا یہ قصیدہ جناب الہی میں قبول ہو گیا اور خدا تعالٰی نے مجھ سے فرمایا کہ جو شخص یہ قصیدہ حفظ کرلے گا اور ہمیشہ پڑھے گا میں اس کے دل میں اپنی اور اپنے رسول ( آنحضرت کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دوں گا۔اور اپنا قرب عطا کروں گا۔السید محمد سعیدی شامی کو جب یہ قصیدہ دکھایا گیا توہ پڑھ کر بے اختیار رونے گئے اور کہا۔خدا کی قسم میں نے اس زمانہ کے عربوں کے اشعار بھی کبھی پسند نہیں کئے مگر ان اشعار کو میں حفظ کروں گا۔مولانا نیاز محمد خاں نیاز منچوری نے اس قصیدے کے متعلق لکھا ہے۔اب سے تقریباً ۶۵ سال قبل ۱۸۹۳ء کی بات ہے۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے دعوی تجدید و مہددیت سے ملک کی فضا گونج رہی تھی۔اور مخالفت کا ایک طوفان ان کے خلاف بر پا تھا۔آریہ عیسائی اور مسلم علماء بھی ان کے مخالف تھے اور وہ تن تنہا ان تمام حریفوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔یہی وہ زمانہ تھا جب انہوں نے مخالفین کو هل من مبارز " کے متعدد چیلنج دیئے اور ان میں سے کوئی سامنے نہ آیا۔ان پر منجملہ اور اتہامات میں سے ایک اتمام یہ بھی تھا کہ وہ عربی و فارسی سے نابلد ہیں اسی اتہام کی تردید میں انہوں نے یہ قصیدہ نعت عربی میں لکھ کر مخالفین کو اس کا جواب لکھنے کی دعوت دی لیکن ان میں سے کوئی بروئے کار نہ آیا۔مرزا صاحب کا یہ مشہور قصیدہ -۲۹ اشعار پر مشتمل ہے اپنے تمام لسانی محاسن کے لحاظ سے ایسی عجیب و غریب چیز ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا۔ایک ایسا شخص جس نے کسی مدرسہ میں زانوئے ادب تہہ نہ کیا تھا کیو نکر ایسا فصیح و بلیغ قصیدہ لکھنے پر قادر ہو گیا۔اسی زمانہ میں ان کے مخالفین یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ان کی عربی زبان کی شاعری غالبا ان کے مرید خاص مولوی نور الدین کی ممنون کرم ہے لیکن اس الزام کی لغویت اس سے ظاہر ہے کہ مولوی نور الدین خود مرزا صاحب کے بڑے معتقد تھے اور اگر مرزا صاحب