تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 474
تاریخ احمدیت جلدا ۴۷۳ آئینہ کمالات اسلام " کی تصنیف و اشاعت ایک مجلس میں حضرت اقدس سے عرض کی کہ اس کتاب کے ساتھ مسلمان فقراء اور پیرزادوں پر اتمام حجت کے لئے ایک خط بھی شائع ہونا چاہیے۔حضور نے یہ تجویز بہت پسند کی۔آپ کا ارادہ تھا کہ یہ مخط اردو میں لکھا جائے لیکن رات کو بعض اشارات الہامی میں آپ کو عربی میں لکھنے کی تحریک ہوئی۔اور اللہ تعالی کے حضور دعا کرنے پر آپ کو رات ہی رات میں عربی کا چالیس ہزار مادہ سکھا دیا گیا چنانچہ آپ نے اسی الہامی قوت سے التبلیغ " کے نام سے فصیح و بلیغ عربی میں ایک خط لکھا جس میں آپ نے ہندوستان ، عرب، ایران ، ترکی ، مصر او ر دیگر ممالک کے پیرزادوں ، سجادہ نشینوں ، زاہدوں صوفیوں اور خانقاہ نشینوں تک پیغام حق پہنچا دیا۔"التبلیغ " کے بعد عربی زبان میں حضور نے وہ بے نظیر لٹریچر پیدا کیا کہ فصحائے عرب و عجم کی زبانیں اس کے مقابلہ میں گنگ ہو گئیں۔"التبلیغ " کے متعلق ایک عرب فاضل نے کہا کہ اسے پڑھ کر ایسا وجد طاری ہوا کہ دل میں آیا کہ سر کے بل رقص کرتا ہوا قادیان پہنچوں۔D طرابلس کے ایک مشہور عالم السید محمد سعیدی شامی نے اسے پڑھتے ہی بے ساختہ کہا۔واللہ ایسی عبارت عرب نہیں لکھ سکتا۔اور بالاخر اسی سے متاثر ہو کر احمدیت قبول کرلی۔حضرت اقدس فرمایا کرتے تھے۔کہ ہماری جتنی عربی تحریریں ہیں یہ سب ایک رنگ کی الہامی ہی ہیں کیونکہ سب خدا کی خاص تائید سے لکھی گئی ہیں۔فرماتے تھے بعض اوقات میں کئی الفاظ اور فقرے لکھ جاتا ہوں۔مگر مجھے ان کے معنے نہیں آتے۔پھر لکھنے کے بعد لغت دیکھتا ہوں تو پتہ لگتا ہے۔ان کتابوں کا یہ اعجازی رنگ دیکھ کر مخالف علماء کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ یہ آپ کی تالیفات ہیں وہ قطعی طور پر سمجھتے تھے کہ آپ نے اس غرض کے لئے علماء کا کوئی خفیہ گروہ ملازم رکھا ہوا ہے چنانچہ ایک دفعہ ایک مولوی صاحب اس خفیہ گروہ " کا سراغ لگانے کے لئے قادیان آئے اور رات کے وقت مسجد مبارک میں گئے۔منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی ان دنوں مسجد مبارک سے ملحق کمرے میں مقیم تھے مولوی صاحب نے حضرت منشی صاحب سے پوچھا کہ مرزا صاحب کی عربی تصانیف ایسی ہیں کہ ان جیسی کوئی فصیح بلیغ عبارت نہیں لکھ سکتا ضرور مرزا صاحب کچھ علماء سے مدد لے کر لکھتے ہوں گے اور وہ وقت رات ہی کا ہو سکتا ہے تو کیا رات کو کچھ آدمی ایسے آپ کے پاس رہتے ہیں جو اس کام میں مدد دیتے ہوں حضرت منشی صاحب نے کہا مولوی محمد چراغ صاحب اور مولوی معین صاحب ضرور آپ کے پاس رہتے ہیں یہی علماء رات کو امداد کرتے ہوں گے۔حضرت اقدس کو منشی صاحب کی یہ آواز پہنچ گئی اور حضور بہت ہے۔کیونکہ مولوی محمد چراغ صاحب اور مولوی معین الدین صاحب دونوں حضور کے ان پڑھ ملازم تھے اس کے بعد مولوی صاحب موصوف اٹھ کر چلے گئے۔اگلے روز جب حضور بعد عصر مسجد میں حسب معمول بیٹھے تو مولوی صاحب موصوف بھی موجود تھے۔حضور نشی