تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 470
تاریخ احمدیت جلدا ۴۶۹ مقر لاہور ه تاریخ وفات مئی ۱۹۳۷ء حواشی صحیح بخاری باب مناقب عمر یعنی تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے مرد گزرے ہیں جو نبی تو نہیں تھے مگر انہیں مکالمہ مخاطبہ کا شرف حاصل تھا۔اگر میری امت میں کسی کو یہ مقام حاصل ہے تو وہ عمر ہیں۔عرفانی سابق وزیر اعلیٰ مغربی پاکستان جناب مظفر علی صاحب قزلباش کے پردادا "حیات احمد " جلد سوم صفحہ ۲۰۶-۲۳۹٬۲۱۸-۲۵۰- تبلیغ رسالت جلد دوم صفحه ۹۴-۱۹۲ حکم ۴- اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحه ۳ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحه ۱۲-۱۳- میرت مسیح موعود ( از حضرت عرفانی صاحب م صفحه ۱۵۷-۲۰۷۱۵۸-۴۰۷ محمد داعظم جلد اول صفحه ۳۳۲-۳۳۳ سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۲۳۹ مجدد اعظم جلد اول صفحه ۳۳۳ آئینه حق نما" (مولفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب) صفحہ ۱۰۷ ۱۰۸ پر بھی یہ نظم ڈاکٹر محمد اقبال صاحب کی زندگی میں شائع ہو چکی ہے۔"سیرت المهدی " حصہ سوم صفحه ۲۴۹ الله مولانا عبد المجید سالک لکھتے ہیں۔علامہ کے برادر بزرگ شیخ عطا محمد نے علامہ کو اعلیٰ تعلیم دلائی۔یورپ بھیجا۔حضرت علامہ بھی اپنے بڑے بھائی کے مداح اور فریفتہ تھے۔شیخ عطا محمد نے بیاسی سال کی عمر بائی ۱۹۴۰ء میں انتقال فرمایا۔شیخ صاحب احمدی عقائد رکھتے تھے۔(ذکر اقبال صفحہ ۱۰۹) اخبار " نوائے وقت ۵- نومبر ۱۹۵۳ء و "پیغام صلح ۱۸- نومبر ۱۹۵۳ء ۱۳- رسالہ انڈین اینٹی کو بری " جلد ۲۹ ستمبر ۱۹۰۰ ء صفحه نمبر ۲۳۹ ملت بیضا پر ایک ممرانی نظر " صفحہ ۱۸ مطبوعہ انجمن معین الاسلام لاہور کی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے آفتاب اقبال کو تعلیم کی غرض سے بڑے بڑے علمی مراکز چھوڑ کو قادیان بھیجوایا۔چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ بڑی حسرت سے کہا۔" میں نے اسے قادیان بھیجا تھا تا دین سیکھ لے مگر وہ وہاں نہ رہا " الفضل ۲ اگست (۱۹۳۵ ذکر اقبال صفحه ۷۰ ( از مولانا عبد المجید سالک) ۷ مکاتیب اقبال " مرتبہ شیخ عطاء اللہ صاحب ایم۔اے) حصہ اول صفحہ ہے۔۱۸ مکاتیب اقبال " حصہ دوم صفحه ۳۱ ۲ ۱ صفحه ۲۳۳ " مکاتیب اقبال جلد اول صفحه ۴۷ ۲۰ حیات احمد " جلد سوم صفحه ۲۲۱-۲۲۶- " ریویو آف ریلیجز "اردو جنوری ۱۹۴۲ء صفحه ۱۴-۱۵ ام حیات احمد جلد سوم ریویو آف رینجرز اردو جنوری ۱۹۴۳ صفحه ۲۴-۲۶ ۲۲ « تبلیغ رسالت " جلد دوم صفحه ۱۰۲ -۲۳ کتاب "اربعین فی احوال المد حسین میں حضرت نعمت اللہ ولی سے متعلق لکھا ہے۔" مرد صاحب باطن راز اولیاء کامل در ہندوستان مشهور اند وطن اوشان در اطراف دهلی است زمانه شان پانصد و شصت هجری (۵۶۰) از دیوان اوشان معلوم می شود و در آن این ابیات در هندوستان مشهور و معروف است۔آپ کی شخصیت اور آپ کے قصیدے سے متعلق تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو رسالہ " تائید نشان آسمانی " ( از مولانا جلال الدین