تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 464 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 464

تاریخ احمدیت جلدا ۶۳ سفر لاہور صاحب جو کپور تھلہ کے علماء میں سے تھے آبدیدہ ہو گئے اور انہوں نے ہاتھ بڑھایا کہ میری بیعت لے لیں۔مگر حضور نے بیعت لینے سے انکار کر دیا۔وہاں صرف ایک ہی دن قیام فرمایا اور قادیان تشریف لے آئے۔حضرت اقدس نے دوسرا سفر زمانہ بیعت کے بعد اختیار فرمایا آپ اس وقت علی گوہر صاحب افسر ڈاک خانہ کے ہاں ٹھرے تھے۔اور تین دن قیام فرمایا تھا۔اور تیسرا سفر اب اختیار فرمایا۔جو دعوئی مسیحیت کے بعد تھا۔آپ اس کے بعد کپور تھلہ تشریف نہیں لے گئے سفر جالندھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے کپور تھلہ سے واپسی پر کرتار پور تک بگھی میں سفر کیا اور جالندھر تشریف لے گئے اس سفر میں کپور تھلہ کے مخلص خدام مثلاً منشی عبدالرحمن صاحب اور نشی ظفر احمد صاحب حضور کے ہمرکاب تھے۔بعض لوگوں نے جالندھر کے انگریز سپرنٹنڈنٹ پولیس سے شکایت کی کہ ایک شخص قادیان سے آیا ہوا ہے اور کہتا ہے میں مسیح موعود ہوں۔اس کے قیام سے یہاں فساد کا اندیشہ ہے اسے حکم دیا جائے کہ وہ یہاں سے چلا جائے۔چنانچہ اسی شکایت کی بناء پر یہ انگریز افسر صبح سویرے ہی حضور کی قیام گاہ پر پہنچا۔بہت سے مخلصین جمع تھے۔حضور نے اس کے واسطے کرسی منگوائی اور دوسری کرسی پر خود تشریف فرما ہوئے۔اس نے پوچھا آپ یہاں کیسے آئے ہیں۔حضور علیہ السلام نے ایک لمبی تقریر فرمائی جس سے وہ اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے کہا جب تک آپ کی مرضی ہو یہاں قیام فرما ئیں اور یہ کہ کر اور سلام کر کے وہ واپس چلا گیا اس کے بعد اس کا یہ معمول ہو گیا کہ جب حضور میر کو تشریف لے جاتے اور وہ راستے میں گھوڑے پر سوار مل جاتا تو وہ ٹوپی اتار کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتا سفر لدھیانہ حضرت اقدس میچ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جالندھر میں قریباً ایک ماہ قیام فرما کر لدھیانہ تشریف لے گئے۔حضور نے ازالہ اوہام " میں مخالفین کو نشان نمائی کے مقابلہ کی دعوت دے رکھی تھی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ ( جلد ۱۴ نمبر ۲ صفحہ ۵۱-۵۲) میں ایک فرضی صوفی