تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 463 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 463

تاریخ احمدیت جلدا ۶۲ مقر لاہور سیالکوٹ تشریف لائے تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی سیالکوٹ پہنچے۔اور مختلف مساجد میں حضرت اقدس کے خلاف گمراہ کن وعظ کئے اور عوام کو آپ کے خلاف بھڑ کانے کی ہر رنگ کوشش کی مگر جن آنکھوں نے اس نورانی چہرہ کو اٹھائیس برس قبل دیکھا تھاوہ بھلا ان کی باتوں سے کیونکر دھوکا کھا سکتی تھیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس مخالفت میں انہیں سخت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔اور لوگ ذوق و شوق کے ساتھ آپ کی بیعت میں شامل ہوئے۔سفر کیور تھلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے کے بعد کپور تھلہ تشریف لے گئے جہاں حضور نے دو ہفتہ قیام فرمایا اور میاں سردار علی صاحب کے مکان میں فروکش ہوئے یہ حضور کا کپور تھلہ کی طرف تیسرا اور آخری سفر تھا۔حضور نے کپور تھلہ کا پہلا سفر منشی محمد اروڑا صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب کی درخواست پر زمانہ بیعت کے قریب اختیار فرمایا تھا اس وقت کپور تھلے تک ریل نہیں تھی۔حضور یکے سے اتر کر کپور تھلے کی مسجد فتح والی میں تشریف لے گئے۔حافظ حامد علی صاحب ساتھ تھے۔مسجد سے حضور نے خادم مسجد کو بھیجا کہ منشی اروڑا صاحب یا منشی ظفر احمد صاحب کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دو۔منشی ظفر احمد صاحب اور منشی محمد اروڑا صاحب کچرنی میں تھے۔خادم مسجد نے انہیں اطلاع دے دی کہ مرزا صاحب مسجد میں ہیں اور انہوں نے مجھے اطلاع دینے کے لئے بھیجا ہے۔نشی محمد اروڑا صاحب نے بڑی حیرت سے اسے پنجابی میں کہا۔”دیکھ تاں تیری مسیت وچ آکے مرزا صاحب نے ٹھبر ناسی" یعنی کیا تمہاری مسجد میں ہی آکر مرزا صاحب نے ٹھرنا تھا۔منشی ظفر احمد صاحب نے کہا چل کر دیکھا تو چاہیے۔پھر منشی صاحب جلدی سے پگڑی باندھ کر ان کے ساتھ چل پڑے۔مسجد میں جا کر دیکھا کہ حضور فرش پر لیٹے تھے اور حافظ حامد علی صاحب پاؤں دبا رہے تھے۔منشی محمد اروڑا خان صاحب نے عرض کیا کہ حضور تشریف لانا تھا تو ہمیں اطلاع فرماتے ہم کرتار پور اسٹیشن پر حاضر ہوتے۔حضور نے جواب دیا اطلاع دینے کی کیا ضرورت تھی ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا۔وہ پورا کرنا تھا۔بهر حال حضرت اقدس" کپور تھلہ کے محلہ قائم پورہ کے اس مکان میں جہاں بعد میں پرانا ڈاک خانہ رہا ہے فروکش ہوئے۔وہاں بہت سے لوگ حضور کے پاس جمع ہو گئے جن میں کرنیل محمد علی خاں صاحب اور مولوی غلام محمد صاحب بھی تھے کر نیل صاحب نے ایک سوال پیش کیا جس کے جواب میں تضور نے تصوف کے رنگ میں ایک تقریر فرمائی جس سے حاضرین بہت متاثر ہوئے۔مولوی غلام محمد