تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 462 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 462

تاریخ احمدیت جلدا سفر لاہور عمر بھر نہایت اخلاص کے ساتھ احمدیت سے وابستہ رہے۔شیخ عطا محمد صاحب کے بیٹے شیخ اعجاز احمد صاحب خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور نہایت مخلص احمدی ہیں (کتاب کے اس جدید ایڈیشن کے دوران آپ انتقال فرما گئے۔تاریخ وفات ۲- جنوری ۱۹۹۴ء) مولوی غلام محی الدین صاحب قصوری کے بیان کے مطابق خود ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب نے بھی پانچ سال بعد ۱۸۹۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرلی تھی۔اور حضرت اقدس کی زندگی میں اپنے بعض انگریزی مضامین میں حضور کے متعلق صاف صاف لکھا کہ آپ جدید ہندی مسلمانوں میں سب سے بڑے دینی مفکر ہیں۔نو سال بعد ( ۱۹۱۰ء میں) انہوں نے علی گڑھ میں ایک تقریر میں کہا کہ ” پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں "۔ان کے بعض سوانح نگاروں کے بیان کردہ حالات سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ ۱۹۱۳ء تک وہ جماعت قادیان سے ربط ضبط رکھتے تھے۔چنانچہ انہوں نے اس زمانہ میں ایک نجی مسئلے میں فتوی حاصل کرنے کے لئے اپنے ایک گہرے دوست کو حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں قادیان بھیجا تھا۔لیکن اس کے بعد جیسا کہ ڈاکٹر محمد اقبال صاحب کے ایک خط سے معلوم ہوتا ہے وہ سلسلہ قادریہ سے منسلک ہو گئے تھے۔اور عمر کے آخر میں جمال الدین صاحب افغانی کو مجدد سمجھنے لگے تھے۔بایں ہمہ وہ ۱۹۳۲ء تک جماعت احمدیہ کے اشاعت اسلام کے دینی جوش و خروش کے بہر نوع مدح رہے۔چنانچہ انہوں نے ے۔اپریل ۱۹۳۲ء کو اپنے ایک مکتوب میں لکھا کہ "اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے کئی طریق ہیں۔میرے عقیدہ ناقص میں جو طریق مرزا صاحب نے اختیار کیا ہے وہ زمانہ حال کی طبائع کے لئے موزوں نہیں ہے ہاں اشاعت اسلام کا جوش جو ان کی جماعت کے اکثر افراد میں پایا جاتا ہے قابل قدر ہے " ان کی وفات سے تین سال قبل (۱۹۳۵ء میں) بعض سیاسی حلقوں میں جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا مطالبہ اٹھا تو ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس کی تائید میں خالص فلسفیانہ رنگ میں مضامین لکھے اور دراصل فلسفہ ہی وہ موضوع تھا جس کے متعلق خود ان کی رائے تھی کہ ”میری عمر زیادہ تر مغربی فلسفہ کے مطالعہ میں گزری ہے اور یہ نقطہ خیال ایک حد تک طبیعت ثانیہ بن گیا ہے۔دانستہ یا نادانستہ میں اسی نقطہ خیال سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرتا ہوں"۔ڈاکٹر صاحب اور ان کے والد بزرگوار کا ضمنی تذکرہ کرنے کے بعد دوبارہ سفر سیالکوٹ کا ذکر کیا جاتا ہے۔حضرت مسیح مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی مخالفانہ کوشش اور ناکامی موعود علیہ السلام