تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 459
تاریخ احمدیت جلد) ۴۵۸ سفر لاہور خود بخاری لے کر چند ورق الٹے اور آخر حوالہ معجزانہ رنگ میں مل گیا اور اس پر مباحثہ ختم ہو گیا۔مبانے کے اختتام پر حضرت اقدس" کا ایک تحریری بیان جس پر آٹھ افراد کے دستخط تھے پڑھ کر سنایا گیا۔اس میانے کے اصل پرچے مولوی عبدالحکیم صاحب ساتھ لے کر چلے گئے تھے اور مطالبے کے باوجود انہوں نے آخر دم تک واپس نہیں کئے۔مولوی صاحب ایک دفعہ مباحثہ کے بعد قادیان بھی آئے تھے۔حضور کو اطلاع ہوئی تو وہ نواب صاحب کے مکان میں ٹھہرائے گئے اور حضور نے ان کی خاطر تواضع کے لئے حکم دیا۔اس موقعہ پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے ان سے بڑے اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ کے پاس مباحثے کے پرچے ہیں مہربانی کر کے مجھے دیدیں آپ کے کام کے نہیں اور اگر اپنے پرچے نہ بھی دیں تو حرج نہیں مگر حضرت اقدس کے پرچے ضرور دے دیں انہوں نے اس وقت وعدہ کیا کہ جاتے ہی بھیج دونگا۔مگر اس کے ایفا کی ان کو توفیق نہ مل سکی انہی دنوں ایک برہمو سماج کا سیکرٹری جو ایم۔اے تھا حاضر خدمت تقدیر کے مسئلہ پر تقریر ہوا۔اور اس نے ذکر کیا کہ تقدیر کا مسئلہ میں نے اپنی تحقیق کی بناء پر اس طرح حل کیا ہے کہ میرے خیال میں شاید اس سے بہتر کوئی اور تسلی بخش بیان نہ کر سکے۔آپ نے یہ سن کر مسئلہ تقدیر پر تقریر شروع فرما دی۔وہ شخص حیران ہو گیا اور اس نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری معلومات اس بارے میں بیچ ہیں اور آپ سے بہتر دنیا میں کوئی اور شخص مسئلہ تقدیر کو نہیں سمجھتا۔اور کچی بات یہ ہے کہ آپ میں پر میشر کی شکتی ہے انسان سے آدمی گفتگو کر سکتا ہے مگر جو پر میٹر کا روپ رکھتا ہو۔اس کے آگے کیا پیش جا سکتی ہے پھر وہ نہایت ادب سے ہاتھ باندھ کر سلام کر کے الٹے پاؤں یہ کہتا ہوا چلا گیا۔کہ بڑی قوت ہے بڑی قوت ہے۔اس کے جانے کے بعد نواب فتح علی خاں صاحب قزلباش کہنے لگے کہ آپ اسلام کی روح بیان فرماتے ہیں وہ لوگ بڑے ظالم ہیں جو آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ظالم کا لفظ سن کر آپ نے بڑے جوش میں ایک زبرست تقریر فرمائی۔نواب صاحب اس تقریر سے بڑے متاثر ہوئے اور پھر اجازت لے کر السلام علیکم کہہ کر چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد حضور نے فرمایا کہ ہمارے نواب صاحب سے پرانے تعلقات ہیں۔انہیں ایسی مجالس میں شریک ہونے کا کہاں موقعہ ملتا ہے۔اتفاقیہ آگئے میں نے ضروری سمجھا کہ انہیں نصائح آمیز تبلیغ کر دوں۔تا اگر غور کریں تو ہدایت یاب ہوں۔A سفر سیالکوٹ جماعت احمدیہ سیالکوٹ کی دلی خواہش تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں