تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 445
1 تاریخ احمدیت۔جلدا سهم سهم سهام سالانہ جلسہ کی بنیاد اور علماء کو روحانی مقابلہ کی عام دعوت سامعین کی کثرت کے پیش نظر مسجد نور سے باہر میدان میں اس مبارک اجتماع کا آغاز ہوا اور ۱۹۴۶ء تک ۲۲ جلسے اس سرزمین میں منعقد ہوئے۔ملکی تقسیم کے بعد قادیان میں ۱۹۴۷ء کا جلسہ سالانہ دوبارہ مسجد اقصیٰ ہی میں منعقد ہوا۔اور پھر وہ ۱۹۴۸ء میں باب الانوار کے پرانے زنانہ جلسہ گاہ میں منتقل کر دیا گیا۔چنانچہ قادیان کا جلسہ سالانہ اب اسی مقام پر ہوتا ہے۔ہجرت ۱۹۴۷ء کے بعد قادیان کی نیابت میں لاہور میں ایک جلسہ ہوا اور پھر ۱۹۴۸ء کا جلسہ بجائے دسمبر کی مقررہ تاریخوں کے اپریل ۱۹۴۹ء میں ربوہ میں ہوا۔بعد ازاں دسمبر ۱۹۴۹ء سے دسمبر ۱۹۸۳ء تک باقاعدگی کے ساتھ ربوہ میں ہر سال جلسه منعقد ہو تا رہا ۱۹۸۵ء سے اس کا انعقاد اسلام آباد لنڈن میں ہو رہا ہے۔۱۸۹۳ء کا سالانہ جلسہ بعض وجوہ سے ملتوی کرنا سالانہ جلسہ کی کارروائی کی رپورٹیں پڑا۔اس کے بعد ۱۸۹۶ء تک کے سالانہ جلسہ کی روداد کی اشاعت کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا گیا۔اس لئے ان کی تفصیل کا ریکارڈ موجود نہیں۔البتہ ۱۸۹۷ء کے جلسے پر (جو ۲۵ دسمبر ۱۸۹۷ء سے یکم جنوری ۱۸۹۸ء تک جاری رہا) مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے اس کی طرف پہلی مرتبہ توجہ دلائی جس پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے ۱۸۹۷ء کے سالانہ جلسہ کی مفصل رپورٹ " تحفہ سالانہ" کے نام سے جنوری ۱۸۹۹ء میں شائع کی۔اس کے بعد چونکہ اخبار الحکم اور البدر کا اجراء عمل میں آچکا تھا۔اس لئے انکے کالموں میں ہر جلسہ کی رپورٹیں پورے اہتمام سے شائع ہوتی رہیں۔پھر خلافت ثانیہ کا دور شروع ہوا تو اخبار الفضل نے مستقل طور پر یہ مقدس ذمہ داری اٹھالی۔سالانہ جلسہ کا آغاز مشکلات کے سالانہ جلسہ کے اجراء میں مشکلات اور تائید غیبی ہجوم میں ہوا۔حضرت اقدس" کے خلاف فتویٰ کفر نے ملک بھر میں مخالفانہ فضا قائم کر دی تھی۔علاوہ ازیں مسجد چینیانوالی لاہور کے امام مولوی رحیم بخش صاحب نے زور شور سے فتوی دیا کہ ایسے جلسے میں جانا بدعت بلکہ معصیت ہے اور جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے۔مذہبی اعتبار ہی سے نہیں بلکہ اقتصادی اعتبار سے بھی اس اجتماع کا سلسلہ جاری رہنا بظا ہر نا ممکن تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جہاں قدم قدم پر تائید و نصرت فرمائی وہاں پردہ غیب سے اس مبارک تقریب کے جاری رہنے کے سامان بھی پیدا کر دیے۔چنانچہ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کا بیان ہے کہ " ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خرچ نہ رہا۔ان دنوں سالانہ جلسہ کے لئے چندہ جمع ہو کر نہیں جاتا تھا حضور اپنے پاس سے ہی صرف فرماتے تھے۔میر ناصر نواب صاحب