تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 446
تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۷۴۵ سالانہ جلسہ کی بنیاد اور علماء کو روحانی مقابلہ کی عام دعوت مرحوم نے آکر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لئے کوئی سالن نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کرلیں۔چنانچہ زیور فروخت یا رہن کر کے میر صاحب روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لئے سامان بہم پہنچا دیا۔دو دن کے بعد پھر میر صاحب نے رات کے وقت میری موجودگی میں کہا کہ کل کے لئے پھر کچھ نہیں۔فرمایا کہ ہم نے برعایت ظاہری اسباب کے انتظام کر دیا تھا۔اب ہمیں ضرورت نہیں جس کے مہمان ہیں وہ خود کرے گا۔اگلے دن آٹھ یا نو بجے جب چھٹی رسان آیا تو حضور نے میر صاحب کو اور مجھے بلایا چھٹی رسان کے ہاتھ میں دس یا پندرہ کے قریب منی آرڈر ہوں گے جو مختلف جگہوں سے آئے تھے سو سو پچاس پچاس روپے کے۔اور ان پر لکھا تھا کہ ہم حاضری سے معذور رہیں۔مہمانوں کے صرف کے لئے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں آپ نے وصول فرما کر توکل پر تقریر فرمائی۔کہ جیسا کہ ایک دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا۔اس سے زیادہ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر پورا تو کل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے۔اور ایسا ہی ہوتا ہے۔کہ جب ضرورت ہوتی ہے۔تو فورا خدا تعالٰی بھیج دیتا ہے"۔سالانہ جلسے کے سو سالہ اعدادو شمار سالانہ جلسہ کے کوائف ختم کرنے سے پیشتر ۱۸۹ء سے ۱۹۹۱ء تک کے جلسہ میں شامل ہونے والے حاضرین کے اعداد و شمار کا مفصل خاکہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بابرکت اجتماع خدائی نصرتوں کا کتنا ز بر دست تاریخی نشان ثابت ہو رہا ہے۔(نوٹ :- ؟ اس علامت کا مطلب یہ ہے کہ مولف کو اب تک اس سال کے اعداد و شمار سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر سے فراہم نہیں ہو سکے)