تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 444 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 444

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۴۳ سالانہ جلسہ کی بنیاد اور علماء کو روحانی مقابلہ کی عام دعوت اور چاروں طرف احباب فرش پر بیٹھے۔سامنے شمال کی طرف حضرت مولانا نور الدین صاحب اور مغرب کی طرف حضرت مولانا برہان الدین صاحب جعلمی اور گوشہ مغرب و جنوب میں پیر سراج الحق " -2 صاحب نعمانی اور ان کے داہنی طرف مولانا سید محمد احسن صاحب فاضل امرد ہوی بیٹھ گئے۔سب سے پہلے حضرت مولانا نور الدین نے وفات مسیح کے متعلق ایک پر معارف تقریر کی۔ازاں بعد سید حامد شاہ صاحب نے ایک قصیدہ مدحیہ منایا۔اس کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے توضیح مرام " کا وہ مقام نکالا جس پر مولویوں نے ملائکہ کی بحث پر نادانی سے اعتراض کیا تھا اور بڑی شرح وبسط سے ایک روح پر در تقریر فرمائی۔جس سے حاضرین کے دل پگھل گئے اور سب پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔اس ایمان افروز خطاب کے علاوہ حضور نے عصر اور مغرب کے بعد بھی اپنے خدام کو روح پر در کلمات سے نوازا۔دوسرے دن ۲۸- دسمبر ۱۸۹۲ء کو یورپ اور امریکہ میں تبلیغ دوسرے دن کی کارروائی اسلام کے لئے ایک مجلس شوری منعقد ہوئی جس میں معزز حاضرین نے اپنی اپنی رائے پیش کی اور قرار پایا کہ ایک رسالہ جو ضروریات اسلام کا جامع اور عقائد اسلام کا خوبصورت چہرہ نمایاں کرتا ہو۔یورپ اور امریکہ میں مفت تقسیم کیا جائے اس کے بعد قادیان میں اپنا مطبع قائم کرنے کے لئے تجاویز پیش ہو ئیں اور ایک فہرست ان اصحاب کے چندہ کی مرتب کی گئی جو مطبع کے لئے چندہ بھیجتے رہیں گے۔یہ بھی قرار پایا کہ ایک اخبار اشاعت حق اور ہمدردی اسلام کے لئے جاری کیا جائے نیز تجویز ہوئی کہ مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی اس سلسلے کے واعظ مقرر ہوں او روہ پنجاب اور ہندوستان کا دورہ کریں۔مجلس شوری میں سالانہ جلسہ کے اغراض و مقاصد کی تکمیل اور دیگر انتظامات کی غرض سے ایک کمیٹی بھی تجویز کی گئی جس کے صدر حضرت مولانا نور الدین صاحب اور سیکرٹری مرزا خدا بخش صاحب بنے اور شیخ رحمت اللہ صاحب میونسپل کمشنر محجرات۔منشی غلام قادر صاحب فصیح میونسپل کمشنر سیالکوٹ اور مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ممبر قرار پائے۔مجلس شورٹی کے ان اہم فیصلوں کے بعد دعا پر جلسہ برخاست ہوا۔اس جلسہ میں کم و بیش چالیس افراد نے بیعت کی۔سالانہ جلسہ کہاں کہاں منعقد ہوا؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ۱۸۹۲ء کے سالانہ جلسہ کے سوا (جو ڈھاب کے کنارے ہوا) باقی جلسے مسجد اقصیٰ میں منعقد ہوئے۔خلافت اولی کے ابتدائی پانچ برسوں میں بھی ان کا انعقاد مسجد اقصیٰ ہی میں ہو تا رہا۔لیکن ۱۹۱۳ء ] سے ۱۹۲۳ء تک مسجد نور جلسہ گاہ رہی۔اس کے بعد ۱۹۲۴ء میں