تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 443 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 443

تاریخ احمدیت جلدا ۴۲ ہم سالانہ جلسہ کی بنیاد اور علماء کو روحانی مقابلہ کی عام دعوت ۱۸۹۲ء کے دوسرے جلسہ کی روداد چنانچہ اگلے سال دسمبر ۱۸۹۲ء سے یہ بابرکت اجتماع مستقل طور پر شروع ہوا۔جس کا سلسلہ خدا تعالٰی کے فضل سے پوری کامیابی سے اب تک جاری ہے۔۱۸۹۲ء کا جلسہ جو بڑا جلسہ کہلاتا ہے ڈھاب کے کنارے ایک وسیع چبوترہ پر ہوا۔جو ڈھاب کی بھرتی سے جلسہ گاہ کے قریب ہی تیار ہوا تھا۔یہی وہ چبوترہ ہے جس پر بعد کو مدرسہ احمدیہ مہمان خانہ اور حضرت خلیفہ المسیح اول کا مکان تیار ہوا۔مگر جلسے کے وقت ان عمارتوں کی فقط بنیادیں اٹھی تھیں۔۱۸۹۲ء کی جلسہ گاہ کے متعلق خفیف سا اختلاف ہے۔حضرت منشی محمد جلال الدین صاحب بلانوی کی روایت کے مطابق ۱۸۹۲ء کا جلسہ ڈاکٹر غلام غوث صاحب کے مکان سے ملحق مہمانخانہ کی جگہ پر ہوا۔لیکن حضرت مرزا برکت علی صاحب نے اپنے نقشے میں جو اصحاب احمد جلد اول ضمیمہ صفحہ ۱۴ میں شائع ہوا ہے اس کا مقام مهمانخانہ اور قدیم مطبع ضیاء الاسلام (یعنی موجودہ بک ڈپو) کے درمیان قرار دیا ہے چنانچہ ان کا نقشہ یہ ہے۔شمال مطبع ضیاء الاسلام مقام جلسہ سالانه ۶۱۸۹۲ مهمان خانه جنوب پہلے دن کی کارروائی ۲۷ دسمبر ۱۸۹۲ء کو جلسہ گاہ میں ایک اونچے چوبی تخت پر حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے قالین بچھا دیا گیا اور حضور اس پر جلوہ افروز ہوئے