تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 436
تاریخ احمدیت۔جلد ۴۳۵ ازالہ اوہام کی تصنیف و اشاعت سفر لدھیانہ مباحثہ دلی کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مع اہل بیت لدھیانہ تشریف لائے اور یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب فرمایا۔سیالکوٹ وغیرہ شہروں سے بہت سے خدام آئے ہوئے تھے۔تقریر کے بعد منشی فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے عرض کیا کہ حضور ہماری مسجد کا مقدمہ دائر ہے۔شہر کے تمام رئیس اور کپور تھلہ کے جملہ حکام فریق مخالف کی امداد کر رہے ہیں اور ہم چند احمدیوں کی بات بھی کوئی نہیں سنتا۔حضور دعا فرمائیں۔منشی فیاض علی صاحب کے عرض کرنے پر حضور نے جلالی رنگ میں فرمایا۔اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے تو مسجد تمہارے پاس واپس آئے گی، منشی صاحب نے یہ پیشگوئی مدعا علیہم اور شہر والوں کو سنادی۔اور مسجد میں ایک تحریر بھی لکھ کر چسپاں کر دی۔اب اتفاق یہ ہوا کہ چیف کورٹ کے جج نے پہلی ہی پیشی میں فریقین کی موجودگی میں کہہ دیا۔کہ مسجد کا بانی غیر احمدی تھا۔لہذا احمدی اپنی مسجد علیحدہ بنالیں۔میں پرسوں مسل پر حکم لکھ دوں گا۔حج کے اس زبانی فیصلہ پر غیروں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پر خوب مذاق اڑایا۔لیکن تیسرے ہی دن ان کی ساری خوشی خاک میں مل گئی کیونکہ عین اس وقت جب کہ یہ حج عدالت میں جانے سے قبل گھر میں حقہ کی انتظار میں بیٹھا تھا اس کی حرکت قلب بند ہو گئی اور وہ مسل پر حکم لکھنے کی حسرت اپنے ساتھ ہی لے کر کوچ کر گیا۔اس حادثہ کے بعد چیف کورٹ کی طرف انگریزی علاقہ سے ایک آریہ بیرسٹر کی خدمات حاصل کی گئیں اور اس سے مقدمہ کے بارے میں رائے طلب کی گئی اس موقعہ پر فریق مخالف نے حصول مقصد کے لئے ہر ممکن کوشش کی مگروہ نا کام رہا۔اور بالاخر ۱۹۰۵ء میں احمدیوں کے حق میں فیصلہ دیدیا گیا اور مسجد احمدیوں کو مل گئی۔سفر پٹیالہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام لدھیانے سے پٹیالہ تشریف لے گئے جہاں حضور کے خسر میر ناصر نواب صاحب ملازمت کے سلسلہ میں مقیم تھے۔حضور کے یہاں درود فرماتے ہی مولوی محمد اسحاق صاحب وغیرہ نے آپ کے خلاف عوام میں مخالفت کی آگ سی لگادی۔وہ قیام پٹیالہ کے دوران میں ایک دن (۳۰- اکتوبر) حضرت اقدس کی فرودگاہ پر آئے اور حضور سے وفات مسیح کے متعلق بالمشافہ گفتگو کی۔مولوی محمد اسحاق صاحب نے دوسرے علماء کے مسلک سے کچھ اختلاف کرتے ہوئے کہا۔کہ