تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 437 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 437

تاریخ احمدیت جلدا ۳۶ ازالہ اوہام کی تصنیف و اشاعت اس قدر تو ہم بھی مانتے ہیں۔کہ بعض احادیث میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم چند گھنٹے کے لئے ضرور فوت ہو گئے تھے مگر وہ پھر زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے تھے۔اور پھر کسی وقت زمین پر اتریں گے۔حضرت اقدس نے اس کے جواب میں ایک نہایت مبسوط تقریر فرمائی۔اور قرآن و حدیث کے متعدد دلائل سے ثابت کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام یقینی طور پر فوت ہو چکے ہیں۔مولوی محمد اسحاق صاحب کے ہمراہ ایک دوسرے عالم مولوی غلام مرتضی صاحب بھیردی بھی آئے تھے جنہوں نے ایک مسئلہ کی تحقیق میں استہزاء شروع کر دیا۔اس پر مولوی محمد عبد اللہ صاحب پروفیسر مہندر کالج پٹیالہ نے (جو اس وقت احمدی نہیں تھے ) کہا۔مولوی صاحب آپ نے تہذیب سے کام نہیں لیا۔آپ کی مولویانہ شان سے بعید ہے کہ ایسی سوقیانہ باتیں کریں۔بعد میں حضرت اقدس نے مولوی عبد اللہ صاحب سنوری سے دریافت فرمایا کہ یہ کون صاحب تھے جنہوں نے مولوی غلام مرتضیٰ صاحب کو ڈانٹا۔ان سے ایمان کی خوشبو آتی ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پروفیسر محمد عبد اللہ صاحب اپنے خاندان سمیت بیعت میں داخل ہو گئے مولوی محمد اسحاق صاحب اور ان کے رفقاء نے مولوی محمد اسحاق صاحب پر اتمام حجت حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لئے مشہور کر دیا کہ انہوں نے اس گفتگو میں فتح پائی ہے۔حضرت اقدس نے پٹیالہ کے عوام کو اس گمراہ کن پراپیگنڈہ سے بچانے کی غرض سے ۳۱- اکتوبر کو ایک اشتہار میں اصل واقعات لکھ دیے اور مولوی محمد اسحاق صاحب کو تحریری مباحثہ کا کھلا چیلنج دیا۔مگر انہیں میدان مقابلہ میں آنے کی جرات نہ ہو سکی۔حضرت اقدس علیہ السلام پٹیالہ میں مختصر قیام کے بعد واپس قادیان تشریف لے آئے۔