تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 434
تاریخ احمدیت جلدا ۴۳۳ ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت مسئلہ حیات و وفات مسیح پر مباحثہ ہو گا۔اس کے بعد نزول مسیح اور پھر آپ کے مسیح موعود ہونے کی بحث ہوگی۔مباحثہ کی تاریخ ۲۳- اکتو بر ۱۸۹۱ء مطابق ۱۹- ربیع الاول ۱۳۰۹ھ قرار پائی مباحثے کا آغاز دوسرے دن صبح ۲۳ اکتوبر کو مباحثے کا اہتمام شروع ہوا۔ایک بڑا لمباد الان تھا جس کے ایک کمرے میں مولوی عبد الکریم صاحب منشی عبد القدوس صاحب (اخبار " صحیفہ قدی" کے غیر احمدی ایڈیٹر) منشی ظفر احمد صاحب، پیر سراج الحق صاحب اور حضور کے بعض دوسرے خدام بیٹھے تھے کہ مولوی محمد بشیر صاحب بھی اپنے چند رفقاء سمیت آگئے۔حضور علیہ السلام مولوی محمد بشیر صاحب کی آمد کی اطلاع پر بالا خانے سے نیچے تشریف لائے۔السلام علیکم اور و علیکم السلام کے بعد مولوی محمد بشیر صاحب نے مصافحہ بھی کیا اور معانقہ بھی۔اس کے بعد حضرت اقدس اور تمام حاضرین بیٹھ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مباحثہ شروع ہونے سے قبل اپنے دعویٰ سے متعلق مولوی محمد بشیر صاحب اور ان کے رفقاء کو مخاطب کر کے ایک پر معارف تقریر فرمائی۔حضور کی یہ تقریر ابھی جاری ہی تھی کہ مولوی محمد بشیر صاحب دوران تقریر ہی میں بول اٹھے کہ آپ اجازت دیں تو میں والان کے پر لے گوشے میں جا بیٹھوں اور وہاں کچھ لکھوں۔دالان میں بہت سے آدمی علی جان والوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔بہت اچھا!! چنانچہ مولوی صاحب دالان کے اس گوشہ میں جابیٹھے اور جو مضمون گھر سے لکھ کر لائے تھے نقل کروانے لگے۔Ba حالا نکہ شرط یہ تھی کہ کوئی اپنا پہلا مضمون نہ لکھے بلکہ جو کچھ لکھنا ہو گا وہ اسی وقت جلسہ بحث میں لکھنا ہو گا۔اس خلاف ورزی پر مولانا عبد الکریم صاحب نے کہا یہ تو خلاف شرط ہے۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے حضرت اقدس سے عرض کیا کہ حضور اجازت دیں تو میں مولوی صاحب سے کہہ دوں کہ آپ لکھا ہوا تو لائے ہیں یہی دے دیجئے۔تاکہ اس کا جواب لکھا جائے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کی بکراہت اجازت دے دی۔انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ مولوی صاحب لکھے ہوئے مضمون کو نقل کرانے کی کیا ضرورت ہے دیر ہوتی ہے لکھا ہوا مضمون دے دیجئے۔تاکہ ادھر سے جلدی جواب لکھا جائے۔اسی طرح منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے کہا کہ حضرت صاحب خالی بیٹھے ہیں جب آپ سوال لکھ کر ہی لائے ہیں تو وہی دے دیں تا حضور جواب لکھیں۔مولوی صاحب نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے گھبرا کر جواب دیا۔نہیں نہیں میں مضمون لکھ کر تو نہیں لایا صرف نوٹ لکھ لایا تھا۔جنہیں مفصل لکھ رہا ہوں۔حالانکہ وہ مضمون کو حرف بحرف ہی لکھوا رہے تھے اس کے جواب میں پیر صاحب نے کچھ کہنا چاہا۔مگر حضرت اقدس نے انہیں روک دیا۔اور حضور نے منشی ظفر احمد صاحب سے یہ فرما کر کہ جب مولوی صاحب