تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 427 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 427

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۶ ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت اپنی جگہ سے اٹھے اور باقی علماء کے نمائندے بن کر پولیس افسر جو دالان کے باہر قریب ہی موجود تھا باتیں کرنے لگے۔مولوی سید نذیر حسین صاحب اپنی جگہ خاموش بیٹھے تھے اور ان کے چہرے سے سخت پریشانی کے آثار ظاہر ہو رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جناب مولوی محمد نذیر حسین صاحب کو ایک رقعہ لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ میں موجود ہوں اب آپ جیسا کہ اشتہار ۱۷ اکتوبر ۱۸۹۱ ء میں میری طرف سے شائع ہو چکا ہے حیات و وفات مسیح کے بارے میں مجھ سے بحث کریں اور اگر بحث سے عاجز ہیں تو یہ قسم کھالیں کہ میرے نزدیک مسیح ابن مریم کا زندہ بحد عصری آسمان پر اٹھایا جانا قرآن وحدیث کے نصوص صریحہ قطعیہ بینہ سے ثابت ہے اس قسم کے بعد اگر ایک سال تک آپ اس جھوٹے حلف کے اثر بد سے محفوظ رہے تو میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کروں گا بلکہ اس مضمون کی تمام کتابیں جلا دوں گا۔مولوی صاحب موصوف نے حضرت اقدس کے رقعہ کا تو کوئی جواب نہ دیا۔ہاں اپنے نمائندے کے ذریعہ سے پولیس افسر تک مباحثہ نہ کرنے کا یہ عذر پہنچا دیا کہ یہ شخص عقائد اسلام سے منحرف ہے جب تک اپنے عقائد کا ہم سے تصفیہ نہ کر لے ہم حیات و وفات مسیح علیہ السلام کے بارہ میں اس سے ہرگز بحث نہ کریں گے۔حضرت اقدس نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اس کے استفسار پر یہ جواب دیا کہ یہ ان (مولوی نذیر حسین صاحب) کے فہم کا قصور ہے۔ورنہ میرے تمام عقیدے اہل سنت و جماعت کے بنیادی عقائد کے بالکل مطابق ہیں ان سے انکار کرنے والے کو میں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اس صورت میں ان تمام عقائد مسلمہ میں بحث کیا کروں بحث تو اختلاف کی صورت میں ہوتی ہے نہ اتفاق کی حالت میں۔پس اصل اختلافی مسئلہ حضرت مسیح کی حیات و وفات ہے لیکن مولوی نذیر حسین صاحب اور ان کے شاگرد اپنی ضد پر اڑے رہے اور اس بحث سے بار بار انکار کرتے رہے۔پھر قسم کے بارے میں گفتگو ہوئی اس سے بھی ان لوگوں نے انکار کیا اور کہا کہ مولوی صاحب بوڑھے اور ضعیف ہیں ہم نہ قسم کھا ئیں اور نہ اس پر مولوی صاحب کو آمادہ کریں۔ان کے اس قسم کے عذرات سن کر خواجہ محمد یوسف صاحب وکیل اور آنریری مجسٹریٹ علی گڑھ حضرت اقدس کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا کہ آپ اپنے عقائد لکھ دیں۔لوگوں کا گمان ہے کہ آپ کے عقائد خلاف اسلام ہیں۔آپ کا لکھا ہوا میں سنادوں گا۔اور ایک نقل اس کی علی گڑھ بھی لے جاؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی وقت اپنے عقائد سے متعلق ایک بیان لکھ کر انہیں دے دیا۔جو خواجہ محمد یوسف صاحب نے بلند آواز سے پڑھ کر سنا دیا۔اور پھر اس بات پر زور دیا کہ جب ان عقائکہ