تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 425 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 425

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۲۴ ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت میں نے اب حفاظت کا انتظام کر لیا ہے مولوی سید نذیر حسین صاحب جہاں چاہیں بحث کے لئے حاضر ہو جاؤں گا اور ہرگز تخلف نہ کروں گا۔وَلَعْنَةُ اللهِ عَلى مَنْ تَخَلَّف۔اس اشتہار میں حضور نے مولوی نذیر حسین صاحب کو اللہ تعالٰی کی قسم دے کر لکھا کہ وہ مرد میدان بنیں اور حیات مسیح کے متعلق تحریری مباحثہ کر لیں۔اس اشتہار میں حضور نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ اگر آپ کسی طرح بحث کرنا نہیں چاہتے تو ایک مجلس میں میرے تمام دلائل سن کر تین مرتبہ قسم کھا کر کہدیں کہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور صحیح اور یقینی امریکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم زندہ بجسده العنصری آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور یہی میرا عقیدہ ہے اس پر اگر ایک سال کے اندراندر آپ خدا کے عبرتناک عذاب سے بچ نکلیں تو میں جھوٹا ہوں۔مولوی نذیر حسین صاحب نے چند روز قبل (۱۳- اکتوبر ۱۸۹ء) حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا تھا کہ آئندہ آپ مجھے خط وکتابت سے معاف رکھیں جو کچھ کہنا ہو میرے تلامذہ مولوی عبد المجید صاحب اور مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب سے کہیں اور انہی سے جواب لیں۔حضرت اقدس نے اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ بقول بٹالوی صاحب شیخ الکل ہیں۔گویا آپ سارے جہان کے مقتدا ہیں اور بٹالوی صاحب اور عبد المجید صاحب جیسے آپ کے ہزاروں شاگرد ہوں گے۔اگر بٹالوی صاحب کو ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ ساکت کر دیا جائے تو اس کا کیا اثر ہو گا۔2 اس اشتہار کے شائع ہوتے ہی دلی والوں میں کھلبلی مچ گئی۔آخر انہوں نے بات یہ بنائی کہ مولوی نذیر حسین صاحب بہت بوڑھے ہیں۔مرزا صاحب نے دیکھ لیا کہ اب مرنے والے تو ہیں ہی چلو ایسا اشتہار دے دو یہ مر جائیں گے اور ہماری بات بن جائے گی ہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے اور نہ مولوی نذیر حسین صاحب یہ بات مان سکتے ہیں۔مگر دلی کے شریف اور متین طبقے نے ان کی یہ روش دیکھ کر زور دینا شروع کیا کہ مولوی نذیر حسین صاحب قسم کھا ئیں۔سچ اور جھوٹ میں واقعی تمیز ہو جائے گی۔چنانچہ فیصلہ ہوا کہ ۲۰ - اکتوبر ۱۸۹۱ء کو عصر کی نماز کے بعد مباحثہ ہو یا قسم اٹھائی جائے۔جو لوگ دیانتداری سے حق و باطل کا فیصلہ چاہتے تھے وہ اس دن کا شدت انتظار کرنے لگے۔لیکن مخالف عصر نے جس کی تعداد زیادہ تھی یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو مسجد ہی میں قتل کر دینا چاہیے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ۲۰ - اکتوبر کی صبح ہی جامع مسجد دلی میں اجتماع سے یہ پیغام آنے لگے کہ آپ جامع مسجد میں ہر گز نہ جائیں فساد کا [ra]; اندیشہ ہے۔دلی کے لوگ آپ کے قتل کے درپے ہیں۔یہ بات بالکل صحیح تھی۔مگر حضرت اقدس علیہ السلام بار بار فرماتے تھے کہ کوئی پروا نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے واللہ