تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 26
تاریخ احمدیت جلد ۲۶ خاندانی حالات Lean Cam) اور اے میرے (A۔Vambery) سرڈی راس (Sir D۔Ross) بلکہ سکرائن بھی شامل ہیں جو تیمور کو ترک قرار دینے پر مصر ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ گروہ بھی پہلے اسی قسم کی غلطی کا شکار ہوا ہے جس کا ارتکاب پہلا گروہ کر چکا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک فریق نے " مغل" کے دائرہ میں کھینچ تان کی ہے اور دوسرے نے " ترک" میں۔جس کا لازمی اور طبعی نتیجہ یہ یر آمد ہوا کہ تیمور کی شخصیت ہی نہیں خود بر لاس نسل کی بیت و صورت ہی "مغل" اور "ترک " پردوں میں پوشیدہ ہو گئی ہے۔بایں ہمہ یہ حقائق چھپائے چھپ نہیں سکتے۔کہ تیمور کے سکوں ہتھیاروں اور مہروں کے نشان اور تیمور کے شاہی محل کی طرز میں قدیم ایرانی روایات بالکل نمایاں تھیں۔کلاویکو (Clavijo) جو تیمور کے دربار میں ہنری سوم (Henry III) کی طرف سے بطور سفیر بھیجا گیا تھا تیمور کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے۔وہ ہتھیار جو امیر تیمور بیگ لگاتا ہے وہ تین دائروں میں ہیں۔انگریزی حرف اور ہ کی طرح اور ان کی شکل اس طرح کی ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ دنیا کی تین اطراف کا مالک ہے۔تیمور کا حکم تھا کہ یہ نشان سکوں پر بھی لگایا جاوے اور ہر ایک چیز پر جو اس کے پاس تھی۔امیر نے اپنی مہروں پر بھی یہ نشان لگانے کا حکم دے رکھا ہے اور اس کا یہ بھی حکم ہے کہ تمام وہ لوگ جو سلطنت تیموریہ کے باجگزار ہیں اپنے اپنے ملک کے سکوں پر یہ نشان لگارہیں۔وہیرے (Vambery) اس مخصوص نشان کو قدیم ایرانی نشان تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے: " و تیمور کے اپنے ہتھیار تین حلقوں میں تھے جن پر راستی کا مائو تھا۔۔۔یعنی انصاف ہی طاقت ہے۔یہ نشان اس کی طاقت کے اظہار کے لئے تھا جو شمال، جنوب اور مغرب تین دائروں پر مشتمل تھے۔مگر گمان غالب یہی ہے کہ وہ قدیم ایران کے ہتھیاروں کے نشانات سے مستعار لئے گئے ہیں کیونکہ حلقے جو طاقت اور اتحاد کا نشان سمجھے گئے ہیں وہ ساسانی بادشاہوں کے مقبروں پر بھی دیکھے جاتے ہیں۔دیمبرے نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ : محل دس سال سے ایرانی معماروں کے ہاتھ سے تیار ہو رہا تھا۔انہوں نے اپنی قومی طرز عمارت کو یہاں تک ملحوظ رکھا کہ سورج اور شیر ببر کے بازو عمارت کی پیشانی پر ڈال دیئے اور اس طرح تو رانی فاتح کے محل پر شاہاں ایران کے نشان بنادیئے "۔تیمور کا قدیم ایران کے نشان کو (جو کوئی وجہ نہیں کہ قومی نشان نہ ہو) یوں سختی سے قائم کرنا اور اپنی باجگزار ریاستوں تک کو اس کی پابندی کا حکم دیتا اس کے فارسی النسل ہونے کا واضح ثبوت ہے اور پھر تورانی فاتح کے محل پر شاہان ایران کا شاہی نشان تو صاف واضح کر رہا ہے کہ تیمور اور اس کا قبیلہ