تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 415 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 415

تاریخ احمدیت۔جلدا علماء وقت کو تحریر کی مباحثہ کی دعوت امرتسر کے سٹیشن پر پہنچی۔شیخ نور احمد صاحب مالک مطبع ریاض ہند سٹیشن پر موجود تھے انہوں نے فورا ایک مکان کا انتظام کیا جو ہال بازار کے قریب غربی جانب کے راستوں میں سے ایک راستہ پر تھا۔اور کنھیا لعل کے ٹھیٹر کے قریب ایک گلی میں چھوٹا سا مکان تھا۔اوپر کے کمرے میں حضرت اقدس کے اہل بیت فروکش ہوئے اور خود حضور اپنے تین چار خادموں کے ساتھ نیچے ٹھہرے۔امرتسر میں آپ کی آمد کا شہرہ ہو گیا۔اور لوگ آپ کی زیارت کے لئے آنے لگے۔امرتسر کے کسی معزز دوست نے حضرت مسیح موعود اور آپ کے خدام کی دعوت بھی کی جس میں مولوی احمد اللہ صاحب بھی مدعو تھے۔دعوت کی تقریب پر مولوی احمد اللہ صاحب نے حضرت اقدس کے سامنے یہی مسئلہ پیش کیا کہ آپ کی بعض تحریروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اس لئے لوگوں کو ٹھو کر لگتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی تشریح فرمائی کہ میری مراد نبوت سے کیا ہے جس پر مولوی صاحب نے عرض کیا اچھا آپ تحریر کر دیں کہ آپ کی تحریرات میں جہاں کہیں نبوت کا لفظ ہے وہ ایسا نہیں کہ جو ختم نبوت کے منافی ہو اور اس سے مراد محد ثیت ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں لکھے دیتا ہوں۔چنانچہ اس وقت حضور نے ایک تحریر لکھ کر مولوی صاحب کو دے دی۔جو انہوں نے اپنے پاس رکھ لی تا ان لوگوں کو دکھا ئیں جو اس وجہ سے حضرت اقدس پر کفر کافتویٰ لگاتے تھے۔مولوی احمد اللہ صاحب نے حضرت اقدس سے یہ بھی دریافت کیا تھا کہ اہلحدیث آپ کا یہ شعر پیش کر کے آپ پر شرک کا الزام لگاتے ہیں کہ۔شان احمد را که داند جز خدا وند کریم آنچنان از خود جدا شد کز میاں افتاد میم اس کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت اقدس نے جواب دیا چونکہ آنحضرت اللہ تعالٰی کے مظہر اتم ہیں اس لئے جس طرح اللہ تعالی خالق ہونے کے اعتبار سے "احد" ہے اسی طرح رسول کریم ال اس کا مظہر اتم ہونے کے باعث تمام مخلوقات میں "احد" ہیں۔انہی دنوں ایک دفعہ بعض شریر لوگوں نے حضرت اقدس کے مکان پر حملہ کر کے بالا خانہ پر چڑھنا چاہا۔مگر آپ کے چند خدام نے بڑی ہمت سے سیڑھیوں میں کھڑے ہو کر ان شریروں کو روکا۔اور بعد کو پولیس کے پہنچنے سے پہلے وہ منتشر ہو گئے۔حضرت اقدس کے امرت سر تشریف لانے کی خبر پر بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے پہنچ گئے۔کپور تھلہ سے منشی محمد خاں صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب بھی آگئے اور بہت دنوں ٹھہرے رہے۔