تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 411 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 411

تاریخ احمدیت۔جلدا ہے۔۱۰م علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت اس بیان اور تقریر پر نیز اس تحریری پرچہ پر جو حضرت اقدس علیہ السلام سناتے تھے چاروں طرف سے راہ را کے اور سبحان اللہ کے نعرے بلند ہوتے تھے۔بلکہ سعد اللہ اور مولوی محمد حسین صاحب کے سوا ان کی طرف کے لوگ بھی بے اختیار سبحان اللہ کہہ اٹھتے تھے۔مولوی صاحب اس پر خفا ہوتے اور کہتے کہ لوگو تم سننے کو آئے ہو یا واہ وا سبحان اللہ کہنے کو آئے ہو۔اس مباحثہ میں حضرت اقدس علیہ السلام نے حدیث اور قرآن شریف کے مقام پر سیر کن بحث کی ہے اور آئندہ کے لئے تمام بحثوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔چھ سات روز تک یہ مباحثہ حضرت اقدس علیہ السلام کے مکان پر ہوا۔اب مولوی صاحب نے رنگ بدلا۔اور کہا کہ اتنے روز تو آپ کے مکان پر مباحثہ رہا اب میری فرودگاه (یعنی مولوی محمد حسن صاحب کے مکان پر مباحثہ ہونا چاہیے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ بھی منظور فرمالیا۔اور باقی دنوں تک مولوی محمد حسن صاحب کے مکان پر مباحثہ رہا جب حضرت اقدس علیہ السلام وہاں تشریف لے جاتے تو میں حاضر ہو جاتا ورنہ مجھے بلوا لیتے۔اس مباحثے میں مولوی محمد حسین صاحب نے بہت چالاکیاں کیں بلکہ ایک پرچہ بھی اڑا لیا جس کا مباحثے میں حوالہ دیا گیا ہے دس روز تک یہ مباحثہ رہا۔آخر باہر سے خطوط آنے لگے اور لدھیانہ کے لوگوں نے بھی شور کیا۔کہ اصل بحث تو وفات و حیات مسیح پر ہونی چاہیے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی بار بار فرمایا که مباحثه تو وفات و حیات مسیح میں ہونا ضروری ہے تاکہ سب مسائل کا یکدم فیصلہ ہو جاوے مگر مولوی صاحب اس مسئلہ کی طرف نہ آئے جب آخری روز مباحثہ کا آیا تو عیسائیوں مسلمانوں اور ہندوؤں کا بہت ہجوم ہو گیا۔میں نواب علی محمد خاں آف مھجر کی کوٹھی پر تھا اور روانگی کا ارادہ کر رہا تھا حضرت اقدس مولوی عبد الکریم صاحب اور منشی غلام قادر صاحب فصیح اور قاضی خواجہ علی صاحب اور الہ دین صاحب واعظ وغیرہ کے ہمراہ مولوی محمد حسن صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے اور میرے پاس مولوی نظام الدین صاحب مرحوم اور مولوی عبد اللہ صاحب مجتہد مرحوم کو بھیجا کہ جلد صاحبزادہ سراج الحق صاحب کو لے آؤ۔یونکہ مضمون میرے پاس تھا۔اور میں نے رات بھر میں مضمون کی نقل کرلی تھی۔اس واسطے اور بھی حضرت اقدس کو میرا انتظار ہوا۔جب میں آیا تو دروازہ بند پایا۔دروازہ پر سینکٹروں آدمی تھے بمشکل تمام دروازه مولوی نظام الدین صاحب مرحوم نے کھلوایا۔میرے ساتھ سب آدمی اندر گھس گئے اور مولوی محمد حسن صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب کا چہرہ زرد ہو گیا۔مجھ سے مولوی محمد حسن صاحب نے کہا کہ تم کیوں آگئے ؟ میں نے کہا ہم کیسے نہ آئیں۔کاتب مباحثہ میں ہوں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے