تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 410
تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۰۹ علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت بھیج دی۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے حوالہ نکالنے کی کوشش کی مگر نہ نکلا۔آخر حضرت مسیح موعود نے خدائی تصرف کے نتیجہ میں خود نکال کر پیش فرما دیا جسے دیکھ کر فریق مخالف پر ایک موت دارد ہو گئی اور مولوی عبدالحکیم صاحب نے اس پر مباحثہ ختم کر دیا۔یہ واقعہ خواہ لدھیانہ میں ہوا ہویا لاہور میں بہر کیف دونوں جگہ یہ ایک نشان تھا۔جو خداتعالی کا اپنے بندے کے لئے ظاہر ہوا۔یہ مباحثہ انہی دنوں حضرت مولانا عبد الکریم صاحب نے ایک محققانہ دیباچہ کے ساتھ سیالکوٹ سے شائع کر دیا تھا جو " الحق لدھیانہ کے نام سے مشہور ہے۔اس مباحثہ پیر سراج الحق صاحب کے بیان کردہ مباحثہ کے تفصیلی کوائف میں حضرت اقدس کے مضمون کو نقل کرنے کی خدمت حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کے سپرد تھی۔حضرت پیر صاحب نے اپنی کتاب تذکرۃ المہدی (حصہ اول) میں جہاں سفر لدھیانہ کے تفصیلی حالات بیان کئے ہیں وہاں مباحثہ کے مفصل حالات بھی لکھے ہیں جو قابل ذکر ہیں چنانچہ آپ لکھتے ہیں مولوی محمد حسین صاحب سے مباحثہ قرار پایا اور مباحثہ کا دن مقرر ہوا۔مباحثہ کے لئے مولوی محمد حسین صاحب حضرت اقدس علیہ السلام کے مکان پر آئے اور ساتھ پانچ سات اور شخص بھی آئے اور ایک سوال لکھ کر حضرت اقدس علیہ السلام کے آگے رکھ دیا حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کا جواب لکھ دیا۔اور مجھے سے فرمایا کہ کئی قلم بنا کر میرے پاس رکھ دو اور جو ہم لکھتے جائیں اس کی نقل کرتے جاؤ چنانچہ میں نقل کرنے لگا ا ، آپ لکھنے لگے جب سوال و جواب اس دن کے لکھ لئے گئے تو مولوی محمد حسین صاحب نے غلاف عہد زبانی وعظ شروع کر دیا اور بیان کیا کہ مرزا صاحب کا جو یہ عقیدہ ہے کہ قرآن شریف حدیث پر مقدم ہے یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے بلکہ عقیدہ یہ چاہیے کہ حدیث قرآن شریف پر مقدم ہے۔کیونکہ قرآن شریف کے متعلق مسائل کو حدیث کھولتی ہے پس وہی فیصلہ کن ہے۔خلاصہ مولوی صاحب کی تقریر کا یہی تھا۔پھر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلے چونکہ یہ معاہدہ ہو چکا تھا کہ زبانی تقریر کوئی نہ کرے اور مولوی صاحب نے اس معاہدہ کے خلاف تقریر کی ہے سو اب میرا بھی حق ہے کہ میں بھی کچھ زبانی تقریر کروں۔پھر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کا یہ عقیدہ کسی طرح بھی صحیح اور درست نہیں ہے کہ حدیث قرآن شریف پر مقدم ہے۔قرآن شریف وحی متلو ہے اور تمام کلام مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمع ہو چکا تھا۔اور حدیث کے جمع کرنے کا ایسا انتظام نہیں تھا۔اور نہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھی گئی تھی۔پس وہ مرتبہ اور درجہ جو قرآن شریف کو حاصل ہے وہ حدیث کو نہیں ہے۔کیونکہ یہ روایت در روایت پہنچی