تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 407
تاریخ احمدیت۔جلد ۴۰۶ علماء دقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت ضائع نہیں کرتا۔وہ اپنے بندوں کے حال سے خوب واقف ہے اس میں کچھ حکمت الہی ہے یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ دوسرا خط آیا کہ تم اپنی ملازمت پر حاضر ہو جاؤ اور اگر کسی وجہ سے نہ آسکو تو رخصت کی ایک درخواست بھیج دو تارخصت مل جائے۔اور میں کوشش کر کے رخصت دلوادوں گا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ریل کے نہ ملنے میں یہ حکمت الہی تھی۔اب رخصت کی درخواست بھیج دو۔مولوی صاحب نے حسب الارشاد ایک درخواست بھیج دی اور وہ بھی منظور ہو گئی۔مولوی صاحب کو بہت روز حضرت کی خدمت میں رہنے اور فیض صحبت اٹھانیکا موقع میسر آگیا۔مباحثه "الحق" لدھیانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت مباحثہ پر اور کوئی سامنے نہ آیا لیکن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو اپنے علم پر بہت گھمنڈ تھا اور وہ ابتداء ہی سے حضرت اقدس کو مغلوب کرنے کا فیصلہ کر کے حضور سے خط و کتابت کرنے کے علاوہ حضرت مولانا نور الدین صاحب سے بھی نوک جھونک جاری رکھے ہوئے تھے۔اس ترنگ میں وہ شملہ سے لدھیانہ پہنچے اور آتے ہی شہر میں یہ شور مچا دیا کہ مرزا صاحب کو چاہیے کہ وہ مجھ سے مباحثہ کر لیں۔حضرت اقدس تو مباحثہ کے لئے پہلے ہی تیار تھے رات کے وقت مولوی رحیم اللہ صاحب لاہوری اور مولوی نظام الدین صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ ہمارا مشورہ یہ ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب سے مباحثہ نہ کیا جائے کیونکہ وہ سخت بد زبان ہے۔مگر آپ نے فرمایا بحث ہونے دو اس کی علمیت کی پوری حقیقت کھول دی جائے گی اور وہ جان جائے گا کہ بحث اس کا نام ہے۔پھر مولوی عبد اللہ صاحب نے عرض کیا کہ بحث کس مسئلہ میں ہوگی فرمایا وفات مسیح میں بحث ہوگی۔اور یہی اصل ہے انہوں نے عرض کیا کہ سنا ہے وہ یہ مسئلہ نہیں چھیڑیں گے وہ تو نزول مسیح کے مسئلہ میں گفتگو کریں گے۔آپ نے فرمایا۔نزول مسیح کی بحث سے کیا تعلق۔نزول مسیح تو ہم خود مانتے ہیں۔اگر نزول مسیح ہم نہ مانتے تو ہمارا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا کب چل سکتا تھا۔اصل مسئلہ جس پر بنیادی طور پر بحث ضروری ہے وہ تو وفات و حیات مسیح کا ہی مسئلہ ہے۔مولوی نظام الدین صاحب کی بیعت کا واقعہ دوسرے روز صبح آٹھ نو بجے مولوی نظام الدین صاحب مولوی محمد حسین صاحب اور دو تین اور اشخاص کی مولوی محمد حسین صاحب کے مکان پر آپس میں گفتگو ہوئی۔مولوی نظام الدین صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح کی زندگی پر بھی قرآن شریف میں کوئی آیت ہے۔