تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 405 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 405

تاریخ احمدیت جلدا ۴۰۴ علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت دکھا کر آئیں گے لیکن ارادہ الہی میں کچھ اور ہی مقدر تھا۔جب مولوی غلام نبی صاحب اندر گئے تو مولوی صاحب نے پوچھا۔حضور آپ نے وفات مسیح کا مسئلہ کہاں سے لیا ہے ؟ حضرت اقدس ! قرآن شریف حدیث شریف اور علماء ربانی کے اقوال سے۔مولوی صاحب ! کوئی آیت قرآن مجید میں وفات مسیح کے بارے میں ہو تو بتلائیے۔حضرت اقدس نے قرآن شریف کے دو مقام پر کاغذ کا نشان رکھ کر مولوی صاحب کے ہاتھ میں دیا۔ایک مقام تو سورہ آل عمران ع۶ اور دوسرا سورہ مائدہ کے آخری رکوع کا تھا۔پہلے میں آیت يا عينى اني متوفیک اور دوسرے میں آیت فَلَمَّا توقینی تھی۔مولوی صاحب دونوں آیات دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے اور کہنے لگے یو مِن أجور ہم بھی تو قرآن شریف میں ہے اس کے کیا معنے ہوں گے؟ حضور اقدس نے فرمایا۔یہ اور باب سے ہے اور وہ اور باب سے۔مولوی صاحب دو چار منٹ حیران ہو گئے اور سوچ کر کہنے لگے۔معاف فرمائیے میری غلطی تھی۔جو کچھ آپ نے فرمایا صحیح ہے قرآن مجید آپ کے ساتھ ہے۔حضرت اقدس فرمانے لگے جب قرآن مجید ہمارے ساتھ ہے تو آپ کس کے ساتھ ہیں؟ مولوی صاحب یہ سن کر رو پڑے یہاں تک کہ ان کی ہچکی بندھ گئی اور عرض کیا یہ خطا کار گنہگار بھی حضور کے ساتھ ہے اس کے بعد مولوی صاحب پھر روتے رہے اور سامنے مودب بیٹھے رہے۔اندر تو مولوی صاحب کے خیالات میں یہ انقلاب واقع ہوا اور باہر کئی ہزار آدمی کھڑا اس انتظار میں خوش ہو ہو کر تالیاں بجا رہا تھا کہ آج مرزا قا بو آیا۔آج مرزا کو تو بہ کرنی پڑے گی۔بہر کیف جب بہت دیر ہو گئی تو لوگ آواز میں دینے لگے کہ جناب مولوی صاحب باہر تشریف لائیے۔مولوی صاحب نے ان کی ایک بات کا بھی جواب نہ دیا جب شور زیادہ بلند ہوا تو مولوی صاحب نے کہلا بھیجا کہ تم جاؤ میں نے حق دیکھ لیا اور پالیا۔اب میرا تم سے کچھ کام نہیں ہے اگر تم اپنا ایمان سلامت رکھنا چاہتے ہو تو آجاؤ اور اس امام کو مان لو۔میں اس امام صادق سے کس طرح الگ ہو سکتا ہوں۔جو اللہ تعالٰی کا مامور اور آنحضرت کا موعود ہے۔جس کو آنحضرت نے سلام بھیجا۔مولوی صاحب اس حدیث کے الفاظ پڑھکر حضرت اقدس علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے سامنے یہ حدیث شریف دوبارہ بڑے زور سے پڑھی اور عرض کیا کہ میں اس وقت بموجب حکم آنحضرت کا سلام پہنچا تا ہوں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس وقت ایک عجیب لہجہ اور عجیب آواز سے وعلیکم السلام فرمایا کہ مولوی صاحب مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے۔اس وقت حضرت اقدس علیہ السلام کے چہرہ مبارک کا اور ہی