تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 399
تاریخ احمدیت جلد جنوری و فروری ۱۹۵۹ء ۳۹۸ والد بزرگوار مولوی مرتضی حسن خاں صاحب (غیر مبائع) آپ کا اشتہار بھی "نشان آسمانی " میں موجود ہے۔یہ تفصیلات حضرت مولوی برہان الدین صاحب علمی کے قلم سے اشاعتہ السنہ جلد ۱۴ کے حاشیہ صفحہ ۳۶۳ پر درج ہیں۔۱۷ اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر ۱ - ۲ صفحہ ۱۱۳-۱۹۵ -14 ۱۸ ایسا صفحه ۱۸۰ رجر " روایات صحابہ "غیر مطبوعہ جلد اصفح ۴۲ روایات ڈاکٹر علم دین صاحب ساکن کڑیانوالہ ضلع گجرات ۲۰ "روایات صحابہ " غیر مطبوعہ جلد ۹ صفحه ۲۵۶-۲۵۷ الفضل ۱۷- جنوری ۱۹۲۱ء صفحہ ۵ ۲۲ اشاعۃ السنہ جلد ۱۸ نمبر ۳ صفحه ۹۵-۹۶ -۲۳ حضرت محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں اذا خرج هذا الامام المهدى فليس له عد و مبين الا الفقهاء خاصه التومات یکه جلد سوم صفحه ۳۷۴) یعنی جب امام مهدی آئیگا۔تو علماء زمانہ سے بڑھ کر ان کا کوئی شدید دشمن نہیں ہو گا۔اسی طرح حضرت مجدد الف ثانی نے لکھا ہے۔"علماء ظواہر مجترات او علی نیناد علیه الصلوة و السلام از کمال وقت و غموض ماخذ انکار نمایند و مخالف کتاب و سنت دانند - (مکتوبات جلد دوم صفحه ۱۰۷ مکتوب نمبر ۵۴) یعنی علماء ظواہر مسیح موعود کے اجتہادات کا انکار کر کے ان کو قرآن و سنت کے خلاف قرار دیں گے کیونکہ ان کے اجتہادات کے ماخذ نہایت لطیف و رقیق ہوں گے۔۲۴ ولادت ۱۳۰۷ /۱۸۸۹ء وفات ۱۳۸۵ھ / ۱۹۶۵ء ( رساله العربی الکویت فروری ۱۹۷۲ء صفحه ۷۴ تا۸۲) -۲۵ دیوان انیسی صفحه ۱۰۷ ناشر مطبع لجنه التاليف والترجمه والتبشير ۵۱۳۵۹/۶۱۹۴۰ ۲۶ مشهور المحمدیث عالم جناب نواب محمد صدیق الحسن خان صاحب تحریر کرتے ہیں کہ "علماء وقت که خوگر تقلید فقهاء واقتداء مشائخ و آباء خود باشند گویند این مرد خانه براند از دین و ملت است و مخالفت برخیزند محسب عادت خود حکم تکفیر و تقلیل دے کنند (حج الکرامہ مطبوعہ بھوپال صفحہ ۳۶۳) یعنی علماء وقت جو فقہاء اور مشائخ واباء کی تقلید و اقتداء کے خوگر ہیں (حضرت مہدی کے متعلق کہیں گے کہ یہ شخص ہمارے دین وملت کو برباد کر دینا چاہتے ہیں وہ مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہونگے اور حسب عادت اس کی تضلیل و تکفیر کا فتوی دیں گے۔۲۷ یه تاریخ اشاعۃ السنہ جلد ۱۲ نمبر ۱۲ صفحہ ۳۶۸( حاشیہ) سے ماخوذ ہے۔۲۸ ذکر حبیب مرتبہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ ۱۳) ۲۹ مکتوبات مسیح موعود ( بنام منشی عبداللہ صاحب سنوری صفحہ ۲۳ اس زمانہ میں حضرت اقدس کے شدت ضعف کا یہ عالم تھا کہ مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بیعت سے قبل حضور کی خدمت میں پہلی بار حاضر ہوئے تو یہ تاثر لے کے باہر آئے کہ لوگوں نے یونسی مخالفت کا شور مچارکھا ہے مرزا صاحب تو صرف چند دن کے مہمان ہیں"۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۲۷۹ ۳۰- "ذکر حبیب "مرتبہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ ۱۴ تذكرة المهدی" جلد اول صفحہ ۱۵۲- ۱۵۳ ) مرتبہ حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی سید نا حضرت مسیح موعود سعد الله لدھیانوی کی نسبت تحریر فرماتے ہیں کہ " مجھے ہر گز امید نہیں کہ ابو جہل نے آنحضرت ﷺ کی نسبت دو بد زبانی کی ہو بلکہ میں یقینا کہتا ہوں کہ جس قدر خدا کے نبی دنیا میں آئے ان سب کے مقابل پر کوئی ایسا گندہ زبان دشمن ثابت نہیں ہو تا جیسا کہ سعد اللہ تھا۔الخ۔(حقیقتہ الوحی طبع اول صفحہ ۲۰ تتمہ) اس کی ناپاک گالیوں کا نمونہ دیکھنے کے لئے اس کی منظوم کتاب "انزام کاریانی " کا مطالعہ کافی ہے یہ کتاب ۱۳۱۰ھ میں انڈین آرمی پریس لدھیانہ سے شائع ہوئی تھی۔۳۲- تذكرة المهدی" جلد اول صفحه ۱۰۴ تا ۱۰۸ ۳۳۔حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری کے بیان کے مطابق یہ الہام اس زمانہ سے بہت قبل آپ کو ہو چکا تھا مگر شہزادہ عبد المجید صاحب اسے قیام لدھیانہ کے زمانہ کا بتاتے ہیں (سیرت المہدی حصہ اول روایت نمبر ۹۶)