تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 396 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 396

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۹۵ دعوی مسیحیت مرے گا اس کی نمازہ جنازہ کوئی نہیں پڑھے گا۔نواب صاحب کے اقرباء ان کی اس بات سے ڈر گئے اس لئے حضرت اقدس نے ان کے جنازہ کی نماز اپنے مکان پر ہی ادا فرمائی اور نواب صاحب مرحوم کے لئے مغفرت و رحمت کی بہت بہت دعا کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو انگریزی حکومت کے زوال سے متعلق الهام (شہزادہ عبد الجيد صاحب کی روایت کے مطابق قیام لدھیانہ میں انگریزی حکومت کے زوال سے متعلق بھی خبر دی گئی اور الہام ہوا کہ۔تا هشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال یعنی برطانیہ کی شان و شوکت کا زمانہ آٹھ سال تک ہے اس کے بعد ضعف و انحطاط کے آثار پیدا سلطنت برطانیہ ہو جائیں گے۔پیر سراج الحق صاحب نے اس الہام کے متعلق حضرت اقدس سے عرض کیا کہ اس میں روحانی اور مذہبی طاقت کا ذکر معلوم ہوتا ہے۔یعنی آٹھ سال کے بعد سلطنت برطانیہ کی مذہبی طاقت یعنی عیسائیت میں ضعف رونما ہو جائے گا اور بچے مذہب یعنی اسلام اور احمدیت کا غلبہ شروع ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا جو ہو گا وہ ہو رہے گا ہم پیش از وقت کچھ نہیں کہہ سکتے۔22 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۰۔مئی ۱۸۹۱ء کو پادریوں کے پادریوں کو دعوت مذاکره مقابل اشتہار دیا کہ خدا تعال نے مجھ پر انکشاف فرمایا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور اس قدر ثبوت میرے پاس ہیں کہ کسی منصف کو مانے بغیر چارہ نہیں۔اس اشتہار میں آپ نے پادری صاحبان کو تبادلہ خیالات کی دعوت دی۔مگر کوئی پادری آپ کے مقابلہ میں نہ آیا - BA حضرت اقدس ادائل جولائی ۱۸۹۱ء میں بعض سفر امر تسر اور لدھیانہ میں دوبارہ درود احباب اور امرتسر کے رؤساء کی خواہش پر چند دن کے لئے لدھیانہ سے امرتسر تشریف لے گئے۔وہاں اہلحدیث کے دو فریق ہو چکے تھے ایک فریق مولوی احمد اللہ صاحب کا تھا اور دوسراغز نویوں کا۔مولوی احمد اللہ صاحب بڑے شریف الطبع انسان تھے۔غزنوی گروہ چاہتا تھا کہ مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کا فتوی لگا ئیں مگر وہ گریز کرتے تھے جس پر مولوی صاحب مسجد سے نکال دئے گئے اور ان کے معتقدین انہیں اپنی دوسری مسجد میں لے آئے۔اس سفر میں حضرت اقدس نے مولوی احمد اللہ صاحب کو اپنے دعوئی سے متعلق ۷۔جولائی ۱۸۹۱ء کو تحریری مباحثہ کی دعوت دی مگر انہوں نے آمادگی کا اظہار نہ کیا اور گو انہوں نے