تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 393 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 393

تاریخ احمدیت جلدا ۳۹۲ دعوتی مسیحیت میں کہا۔"اگر آج میں مرزا صاحب کو پاتا تو قبول کرتا۔خدا کی قسم میں ان کو مانتا ہوں اور یہی میری بیعت ہے۔نیز کہا۔مرزا صاحب اگر خود نبی ہو کر چلے جاتے تو مجھ کو افسوس ہو تا۔وہ تو ہر ایک کو امید دلا گئے ہیں کہ وہ مسیح بن سکتا ہے اور یہ جوش ایسا ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اپنا مکان عشرت منزل چھوڑ دوں مجھے کو مرزا صاحب کی تحریر سے یقین ہو گیا کہ مسیح مرگئے اور مہدی کا کوئی وجود نہیں "۔ان کا یہ بیان ان کی زندگی میں ہی - اخبار "الفضل " ۲۸ - اکتوبر ۱۹۱۶ء میں شائع ہوا تھا۔سید ممتاز علی صاحب اور مولوی سراج الدین صاحب آف زمیندار نے حضرت مسیح موعود کے وصال پر جو شذرہ لکھا وہ ان کے خیالات کا آئینہ دار ہے۔نواب محسن الملک کا ایک مکتوب اسی کتاب میں درج ہے جس میں انہوں نے حضرت اقدس کی اسلامی خدمات کو خراج تحسین ادا کیا ہے۔مولانا محمد علی جو ہر اور حکیم عبد الکریم بر ہم تحریک احمدیت کے متعلق جو جذبات رکھتے تھے ان کا اظہار انہوں نے بالترتیب اخبار " ہمدرد اور " مشرق" کے ذریعہ سے کیا ( تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب "جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات " مولفہ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے) اسی طرح مولانا شبلی نے اس رائے کا اظہار کیا۔میں نے کوشش کی کہ انگریزی خوان عربی پڑھیں دیندار ہوں مگر میں ناکام رہا یہ کامیابی مرزا صاحب کو حاصل ہوئی۔(الفضل 11 - مارچ ۱۹۱۷ ء ) مولانا عبد الحلیم صاحب شرر فرماتے ہیں احمدی مسلک شریعت محمدیہ کو اسی قوت اور شان سے قائم رکھ کر اس کی مزید تبلیغ و اشاعت کرتا ہے۔خلاصہ یہ کہ بابیت اسلام کے مٹانے کو آئی ہے اور احمدیت اسلام کو قوت دینے کے لئے۔اور اسی کی برکت ہے کہ باوجود چند اختلافات کے احمدی اسلام کی کچی اور پر جوش خدمت ادا کرتے ہیں۔جو دوسرے مسلمان نہیں کرتے"۔(رساله دل گر از بابت ماه جون ۱۹۰۶ء) سفر لدھیانہ دعوئی مسیحیت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا کا پیغام پہنچانے اور بالخصوص مسلمانوں پر اتمام حجت کی غرض سے لدھیانہ امرتسر، دلی پٹیالہ، لاہور، سیالکوٹ، جالندھر اور کپور تھلہ کے سفر اختیار فرمائے۔جن سے آپ کی دعوت کا ملک میں خوب چرچا ہو گیا۔اس تعلق میں آپ کا سب سے پہلا سفر لدھیانہ کا ہے جو حضور نے ۳۔مارچ ۱۸۹۱ء کو اختیار کیا۔لدھیانہ میں آپ نے محلہ اقبال گنج مکان شہزادہ غلام حیدر میں قیام فرمایا۔حضرت اقدس کے ساتھ حضرت حافظ حامد علی صاحب اور پیراں دیا تھے۔حضرت اقدس بیمار تھے۔اس لئے حضور نے یہاں خطوط کے جوابات کے لئے منشی عبداللہ صاحب سنوری کو بلا بھیجا۔III اور خود بیماری کے باوجود پیغام