تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 392 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 392

تاریخ احمدیت جلدا ۳۹۱ دعوتی مسیحیت نے اس سے منہ پھیرا تھا اور گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے تھے۔پیغمبر خدا ہماری زبوں حالی اور راہ حق سے بیزاری دیکھ کر یقینا یہ فیصلہ کریں گے کہ لوگ جس راستے پر چل رہے ہیں یہ میرا بتایا ہوا رستہ نہیں ہے اور آخری زمانہ کے لوگوں نے جس مذہب کا طوق ڈال رکھا ہے وہ میرا مذ ہب ہرگز نہیں ہے۔مسلمانان ہند کے روشن خیال عناصر کارد عمل مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دیگر علماء ظواہر کے فتویٰ تکفیر نے عامتہ المسلمین میں زبر دست ہیجان پیدا کر دیا تھا مگر مسلمانوں کے روشن خیال اور سنجیدہ عناصر اکثر و بیشتر اس ہنگامہ آرائی میں غیر جانبدار رہے۔یہی نہیں بعض مشہور مسلم زعماء نے تو اختلاف عقیدہ کے باوجود عمر بھر حضور اور حضور کی جماعت کی خدمات کو سراہا۔اس غیر جانبدار طبقہ میں ملک کے چوٹی کے ادیب، صحافی، شعراء ، سیاسی اور مذہبی لیڈر وغیرہ شامل تھے اس ضمن میں چند قابل ذکر شخصیتوں کے نام یہ ہیں۔خواجہ الطاف حسین حالی پانی پتی (۱۸۳۷-۱۹۱۴) اکبر حسین رضوی اکبر الہ آبادی (۱۸۴۶ ۱۹۲۱) سید علی محمد شاد عظیم آبادی (۱۸۴۶-۱۹۲۷) سید ریاض احمد ریاض خیر آبادی (۱۸۵۳-۱۹۳۴) سر سید احمد خاں بانی علی گڑھ کالج (۱۸۱۷-۱۸۹۸) مولانا عبد الباری صاحب فرنگی محل (۱۸۷۹-۱۹۲۹) مولانا سید امتیاز علی صاحب امتیاز (۱۸۷۰-۱۹۳۵) منشی محمد دین صاحب فوق (ولادت ۱۸۷۷ء) حکیم مولونی عبد الکریم صاحب پر ہم گورکھپوری (۱۸۶۷-۱۹۲۹) مولوی سراج الدین صاحب والد مولوی ظفر علی خان ایڈیٹر اخبار "زمیندار" (متوفی ۱۹۰۹ء) محسن الملک نواب مهدی علی خاں (۱۸۳۷ - ۱۹۰۷) مولانا محمد علی جو ہر (۱۸۷۸ - ۱۹۳۱) مولانا شوکت علی (۱۸۷۳-۱۹۳۸) مولانا شبلی نعمانی (۱۸۵۷-۱۹۱۴) نواب و قار الملک سید مشتاق حسین (۱۸۳۹ - ۱۹۱۷) مولوی عبدالحلیم شرر (۱۸۷۹-۱۹۲۱) یہ محض دعوئی ہی نہیں بلکہ ادبی اور مذہبی لٹریچر میں اس کے متعدد شواہد موجود ہیں۔چنانچہ خواجہ الطاف حسین حالی جو عمر بھر صلح پسندی اور اسلامی رواداری میں سرسید مرحوم کے نقش قدم پر گامزن رہے حیات جاوید " جلد دوم صفحہ ۴۳۷ پر سرسید کے متعلق لکھتے ہیں۔ایک شخص نے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی نسبت ایک طول طویل خط سرسید کو لکھا۔اس کے جواب میں وہ لکھتے ہیں نادان ہیں وہ جو ان سے جھگڑا کرتے ہیں ایک اور شخص نے مرزا صاحب کے خیالات کی مخالفت میں کچھ لکھنے کا ارادہ سرسید سے ظاہر کیا اس کے جواب میں وہ لکھتے ہیں آپ جو رسالہ نسبت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی لکھنا چاہتے ہیں کیا آپ کو کچھ مالیخولیا ہو گیا ہے اس لغو حرکت سے کچھ فائدہ نہیں "۔جناب اکبر الہ آبادی نے ایک مرتبہ اپنی محبت و الفت کا ثبوت دیتے ہوئے صاف لفظوں