تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 387
تاریخ احمدیت۔جلدا دھوئی مسیحیت رسالہ کے دیکھنے اور سننے سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آپ نے اس میں یہ دعوی کیا ہے کہ مسیح موعود ( جن کے قیامت سے پہلے آنے کا خدا تعالٰی نے اپنے کلام مجید میں اشارہ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلام مبارک میں جو صحاح احادیث میں موجود ہے صراحتہ وعدہ دیا ہے وہ) آپ ہی ہیں۔اگر آپ کا یہی دعویٰ ہے تو آپ صرف "ہاں" تحریر فرما دیں زیادہ توضیح کی تکلیف نہ اٹھا میں اور اگر اس دعوئی سے کچھ اور مراد ہے تو اس کی توضیح کریں۔حضرت اقدس نے ۵۔فروری ۱۸۹۱ء کو لکھا کہ آپ کے استفسار کے جواب میں میں صرف "ہاں" کافی بجھتا ہوں۔اس جواب پر مولوی صاحب آپے سے باہر ہو گئے اور آپ سے طویل سلسلہ مراسلت شروع کر دیا جس کی نقل انہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر 1 میں شائع کر دی) بٹالوی صاحب نے لکھا کہ آپ اگر اس دعوئی میں حضرت خضر کی طرح معذور ہیں تو میں اس کے انکار میں حضرت موسیٰ کی طرح مجبور ہوں۔حضرت اقدس نے فتح اسلام " اور " توضیح مرام " کا ایک ایک نسخہ انہیں بھجواتے ہوئے لکھا کہ " مجھے اس سے کچھ غم اور رنج نہیں کہ آپ جیسے دوست مخالفت پر آمادہ ہوں۔۔۔کل میں نے اپنے بازو پر یہ لفظ اپنے تئیں لکھتے ہوئے دیکھا کہ میں اکیلا ہوں۔اور خدا میرے ساتھ ہے۔اور اس کے ساتھ مجھے الہام ہوا ان معی ر بی سپهدین۔سو میں جانتا ہوں کہ خداوند تعالی اپنی طرف سے کوئی حجت ظاہر کر دے گا۔میں آپ کے لئے دعا کروں گا مگر ضرور ہے کہ جو آپ کے لئے مقدر ہے وہ سب آپ کے ہاتھ سے پورا ہو جائے"۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو فتح اسلام اور توضیح مرام کے نسخے پہنچے تو انہوں نے اپنے دلی بغض و عناد کا بر ملا اظہار کرتے ہوئے اپنے اس فیصلے کا اعلان کر دیا کہ " (اشاعۃ السنہ) کا فرض اور اس کے ذمہ یہ ایک قرض تھا کہ اس نے جیسا اس کو (یعنی سید نا حضرت مسیح موعود کو ناقل) دعادی قدیمہ کی نظر سے آسمان پر چڑھایا تھا ویسا ہی ان دعاوی جدیدہ کی نظر سے اس کو زمین پر گرا دے"۔A نیز مسلمانان ہند کو اشتعال دلانے کے لئے لکھا کہ فتنہ قادیانی ابھی فتنہ ہے کوئی دن میں قیامت ہو گا۔اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے مذہب وامن میں زبر دست انقلاب واقع ہونے کا اندیشہ ہے اس لئے اشاعۃ السنہ کا رسالہ اس کی سرکوبی کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا یہ اعلان منظر عام پر آنا تھا کہ ملک بھر میں مخالفت کا طوفان بے تمیزی اٹھ کھڑا ہوا۔شیخ نور احمد صاحب کا (جن کے مطبع ریاض ہند امرت سر میں ابتدائی کتابچے شائع ہوئے) بیان ہے کہ لوگ میرے مطبع میں آتے اور کہتے کہ تم کو کیا ہو گیا تم نے یہ کتاب کیوں چھاپی ؟ عیسی علیہ السلام تو آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں دمشق کے مشرقی سفید منارہ پر اتریں