تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 378
تاریخ احمد بیت - جلدا ۳۷۷ سفر علی گڑھ ہوں وہ مجھ سے بیان کرتے تھے کہ میں دو ماہ تک ان کے پاس ان کے معتقدین خاص کے زمرہ میں رہا۔اور وقتا فوقتا بنظر تنجس و امتحان ہر ایک وقت خاص طور پر حاضر رہ کر جانچا تو معلوم ہوا کہ در حقیقت ان کے پاس آلات نجوم موجود ہیں وہ ان سے کام لیتے ہیں۔مجھے فقرات الہام پر غور کرنے سے ہرگز یقین نہیں آتا کہ وہ الہام ہیں۔مدعی ہونا کرامات کے خلاف ہے اور یہ کہنا کہ جس کو انکار ہو تو وہ آکر دیکھے یہ دعادی باطلہ ہیں۔میں ملاقات کرنے سے بالکل بے عقیدہ ہو گیا ہوں میری رائے میں جو موحد ان سے ملاقات کرے گا ان کا معتقد نہ رہے گا۔نماز ان کی اخیر وقت ہوتی ہے۔جماعت کے پابند نہیں وغیرہ وغیرہ یہ تقریر اس نے چھاپ کر شائع بھی کر دی۔اور حضرت اقدس نے اپنی تصنیف ”فتح اسلام میں اس کے ایک ایک الزام کا دندان شکن جواب دیتے ہوئے اسے " آلات نجوم" کے متعلق بهتان طرازی پر دعوت مباہلہ دی۔جس پر اس نے ایک کتاب لکھی اور اس میں آپ کے خلاف بد دعا کی۔مگر ابھی یہ کتاب ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ وہ دار فانی سے کوچ کر گیا۔علی گڑھ میں ایک تحصیلدار نے جو سید محمد تفضل حسین صاحب کے واقف تھے۔حضرت اقدس کی دعوت کی اور شہر کے دوسرے معززین کو بھی مدعو کیا۔حضور تشریف لے گئے اور میاں عبد اللہ صاحب سنوری ، میر عباس علی صاحب اور شیخ حامد علی صاحب کو اپنے دائیں بائیں بٹھایا۔تحصیلدار صاحب نے کھانے کے لئے چوکیوں یعنی چھوٹے چھوٹے تخت پوشوں کا انتظام کیا تھا جن پر کھانا رکھا گیا۔اور لوگ ان کے ارد گرد بیٹھ گئے۔چوکیوں پر شیشے کے گلاسوں میں گلدستے رکھے ہوئے تھے جب کھانا شروع ہوا تو میر عباس علی صاحب نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا بلکہ خاموش بیٹھے رہے حضرت صاحب نے ان سے دریافت فرمایا آپ کیوں نہیں کھاتے؟ انہوں نے کہا یہ نیچریوں کے طریق کا کھانا ہے حضرت صاحب نے کہا نہیں اس میں کوئی حرج نہیں یہ خلاف شرع نہیں ہے میر صاحب نے کہا حضور آپ کھائیں میں نہیں کھاتا۔غرض میر عباس علی صاحب نے کھانا نہیں کھایا حضرت منشی عبد اللہ صاحب سنوری یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ جب میر عباس علی صاحب مرتد ہوئے تو یہ مجھے بات یاد آگئی کہ وہ در اصل اسی وقت سے کٹ چکے تھے۔حضرت اقدس علی گڑھ میں قریباً ایک ہفتہ قیام فرمار ہے اور پھر لدھیانہ واپس آگئے اور دوسرے ہفتے کے شروع ہی میں قادیان تشریف لے آئے۔10-