تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 379 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 379

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۷۸ ایک عیسائی کے تین سوالوں کے جوابات سفر علی گڑھ مئی یا جون ۱۸۸۹ء میں ایک عیسائی عبداللہ جیمز نے انجمن حمایت اسلام لاہور کے پاس تین سوالات بغرض جواب بھیجے۔انجمن نے ان کے جواب کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مولانا نور الدین دونوں سے درخواست کی۔ہر چند کہ حضرت اقدس کو فرصت نہ تھی اور طبعیت بھی اچھی نہیں تھی محض عشق رسول کے جوش سے ان سوالوں کا جواب تحریر فرمایا۔انجمن نے ان جوابات کو ایک عیسائی کے تین سولواں کے جواب" کے عنوان سے شائع کر دیا۔حضرت اقدس کا یہ معرکتہ الاراء اور لطیف جواب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نے مکتوبات احمد یہ جلد سوم ( صفحہ ۳۴-۷۹) میں درج کر دیا ہے۔جو تشکیت پرستی کے خلاف ایک کامیاب ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے اس میں ایک جگہ فرماتے ہیں۔قرآن شریف صحیفہ فطرت کے تمام علوم اور اس کی صداقتوں کو یاد دلاتا ہے اور اس کے اسرار خامنہ کو کھولتا ہے اور کوئی نئے امور بر خلاف اس کے پیش نہیں کرتا بلکہ در حقیقت اس کے معارف دقیقہ ظاہر کرتا ہے۔برخلاف اس کے عیسائیوں کی تعلیم جس کا انجیل پر حوالہ دیا جاتا ہے ایک نیا خد ا پیش کر رہی ہے جس کی خود کشی پر دنیا کی گناہ اور عذاب سے نجات موقوف اور اس کے دکھ اٹھانے پر خلقت کا آرام موقوف اور اس کے بے عزت اور ذلیل ہونے پر خلقت کی عزت موقوف خیال کی گئی ہے پھر بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک ایسا عجیب خدا ہے کہ ایک اس کی عمر کاتو منزه عن الجسم وعن عیوب الجسم میں گزرا ہے اور دوسرا حصہ عمر کا کسی نہ معلوم بد بختی کی وجہ سے) ہمیشہ کے بجسم اور تحیر کی قید میں اسیر ہو گیا اور گوشت پوست استخوان وغیرہ سب کے سب اس کی روح کے لئے لازمی ہو گئے اور اس تجسم کی وجہ کہ اب ہمیشہ اس کے ساتھ رہیگا۔انواع و اقسام کے اس کو دکھ اٹھانے پڑے۔آخر دکھوں کے غلبہ سے مر گیا۔اور پھر زندہ ہوا اور اس جسم نے پھر آکر اس کو پکڑ لیا اور ابدی طور پر اس کو اب پکڑے رہے گا۔کبھی مخلصی نہیں ہو گی۔اب دیکھو کہ کیا کوئی فطرت صحیحہ اس اعتقاد کو قبول کر سکتی ہے؟ کیا کوئی پاک کا شنس اس کی شہادت دے سکتا ہے "۔۱۸۸۹ء کے بعض دیگر صحابہ tt YA حصہ لدھیانہ میں بیعت اولی کے موقعہ پر جن خوش نصیب بزرگوں نے بیعت کی رجسٹر بیعت سے ان کی فہرست او پر درج ہو چکی ہے۔جیسا کہ رجسٹر بیعت اولی سے ثابت ہے ۱۸۸۹ء کے دوران بعد میں بھی